علامه غريفي:

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق بحرين کے شيعہ عالم دين علامه سيد عبدالله الغريفي نے شہر قفول ميں مسجد امام صادق عليہ السلام کي تباہي کے برسي کي مناسبت سے کہا : بے حرمتي تخريب اور مساجد کي تباہي ابھي بھي جاري ہے اور ابھي بھي خدا کے گھر کي تعمير کے لئے ا?زاد لوگوں کي صدا جاري ہے تعجب کي بات و يہ ہے کہ اسلامي ممالک ميں خدا کا گھر تباہ کيا جا رہا ہے ?
انہوں نے وضاحت کي : تعجب کي بات نہي ہے کہ صہيوني بيت المقدس کي بے احترامي کريں و غصب کريں اور اس ميں ا?گ لگا ديں لوگوں کو نماز کي ادائے گي سے محروم کريں? تعجب کي بات نہي ہے کہ مسيحي مساجد پر حملہ کريں اور خدا کي طرف سے نازل کي گئي پاک کتاب کو جلائيں اور پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم کي توھين کريں بلکہ تعجب کي بات تو يہ ہے کہ يہ کام اس ملک ميں انجام ديا جا رہا ہے کہ جہان صدر اسلام سے اس دين کي پيروي کي جاري ہے ابتدائے اسلامي ميں مساجد اسلام کي طرف دعوت دينے کے لئے تعمير کي گئي تھي ? مگر اس اسلامي ممالک ميں اس طرح کے بے شمار واضح ظلم کا سلسلہ جاري ہے جو قابل شرم ہے ?
علامہ غريفي نے اس اشارہ کے ساتھ کہ مساجد کي تخريب دو طريقہ سے کي جاتي ہے وضاحت کي : پہلا طريقہ يہ ہے کہ مساجد کو کامل طور سے تباہ کر ديا جائے کہ اس کي کوئي بھي علامت باقي نہ رہے اور دوسرا طريقہ جو کہ اسلامي ممالک ميں وہاں کے حکومت کے حکام کي طرف سے پيش کيا جاتا ہے کہ مسجد کے مقصد و مشن کو ختم کر ديا جائے اس کي ذمہ داريوں کا محاصرہ کر ليا جائے اور اس کي ذمہ داري پر پابندي لگا دي جائے ? بيشتر حکام مساجد کے حقيقي کردار کو ضبط کر چکے ہيں اور ان کے امام کو حکومت کے نوکر ميں تبديل کر ديا ہے اور ان کي کوشش رہتي ہے کہ مساجد پر ہر طرح کي تسلط رہے?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے