
رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق دین اور سکھ نام کی کتاب میں سکھ کے یکتا پرستی آئین کو بیان کیا گیا ہے ۔
یہ کتاب تین اصل بخش پر منحصر ہے جس کے عنوان « سکھ کے آئین کی تحقیق تاریخی »، « سیکھ آیین کی تعلیمات » اور« اس سکھ دین کے سلسلہ میں کچھ کلی بحثیں» ہیں ۔
اس کتاب کے لکھنے والے مقدمہ کے بعض حصہ میں لکھتے ہیں : یہ مذھب تازہ وجود میں آنے والا مذھب ہے اس کی بنا کو تقریبا پانچ صدی گزرے ہیں لیکن عین حال ان کے راہنما کے ذریعہ خدا کی طرف سے تازہ دعوت کا بھی دعوی کیا گیا ہے۔ دوسری طرف دیکھتے ہیں کہ اس کی زیادہ تر تعلیم خاص کر توحید کی بحث اور عرفان خدا کے سلسلہ میں تعلیمات اسلامی سے کافی نزدیک ہے اور موت کے بعد کی زندگی کے نظریات ھندو مذہب سے زیادہ قریب ہیں ۔
اس مذھب کا مرکز ھندوستان کے صوبہ پنجاب میں ہے ان کے عبادت گاہ کی معماری اسلامی معماری کے طرز پر بنائی گئی ہے ۔ اور سیکھ کے پانچویں رھبر گرو ارجن نے ھندوستان کے امرتسر میں سونے سے ایک عبادت گاہ بنائی ہے اور کتاب گرنتھ صاحب کے نام سے تالیف کی ہے جو کہ اس مذھب کی اھم ترین اور مقدس ترین کتاب میں سے ہے ۔
کتاب «سکھوں کا دین» کو سید محمد روحانی نے فارسی زبان میں لکھی ہے جو ۴۳۴ صفحہ پر مشتمل ہے اور اس کی ۲۰۰۰ کاپی اس سال پہلی مرتبہ ادیان و مذاھب یونورسیٹی کے انتشارات کی طرف سے شایع کی گئی ہے ۔
ھمارے اتحاد نے دشمن کو ناکام بنادیا
ھمارے اتحاد نے دشمن کو ناکام بنادیا