25 March 2010 - 16:28
خبر کا کوڈ: 1112
فونت
حضرت آیت الله مظاهری
بسم‌الله‌الرحمن‌الرحیم «قال ربّ اشرح لی صدری و یسّر لی امری واحلل عقدة من لسانی یفقهوا قولی» عید نوروز اور اسکی مقبول وپسندیده رسمیں اسلام کے مورد تائید ہے رشتہ داروں کا ایک دوسرے کے یہاں انا جانا ، عید نوروزسے پہلے گھروں کی صفائی ستھرائی اسلام کی جانب سے تائید شدہ اوراسلام نے اس کی بہت زیادہ تاکید ہے اوراسکے مورد پسند ہے .
نوروزکي رسميں

 

مگر بعض ناشایستہ چیزیں جو ان بیس دنوں میں انجام پاتی ہیں ان سے قطعا پرھیز کرنا چاھئے. 

رشتہ داروں ، دوست واحباب کے یہاں انا جانا بہت اچھا ہے مگر اس شرط کے ساتھ تفاخر ، فضل فروشی اورایک دوسرے پرتجملات زندگی کے اظھار کا سبب نہ بنے کہ افسوس بہت ساری ملاقاقتوں میں فخر ومباھات موجود ہے ، گھراور گھراسکے اسباب مھمانوں کی نگاہ میں لایا جاتا ہے کہ جو فخر ومباھات کا حصہ ہے اور یہ فخر ومباھات بہت بڑا گناہ ہے.  

اگر ملاقات کی نشستوں اورمجالس میں غیبت و تهمت ، افواہ وفتنہ انگیزی ہو تو ان افراد کی عید غم میں تبدیل ہوجائےگی. 

 

امیرالمؤمنین نے‌فرمایا: «کُلُّ یَوْمٍ لَا یُعْصَى اللَّهُ فِیهِ فَهُوَ عِیدٌ»[1]، یعنی هر وہ روزجس دن گناہ نہ ہو ، عید ہے.

بعض ملاقاتوں میں بجائے اسکے کہ مٹھائیاں اور پھل تناول کئے جائیں غیبتیں کی جاتیں ہیں اور قران کریم کی فرمائش کے مطابق یہ لوگ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتے ہیں اور اس طرح اپنی عید کو غم میں  تبدیل کرلیتے ہیں.

افسوس عید نوروزمیں تجملات کی خاص اھمیت ہے اورمختلف طریقے سے فخرومباھات کئے جاتے ہیں کہیں مھنگیی قسم کی مٹھائیاں اور پھل لاکر توکہیں کسی اور طریقے سے ، دیکھنے میں اتا ہے مرد وعورت اپنے قیمتی وقت کو مہنگے پھل اورمٹھائیوں کے خریدنے میں صرف کردیتے ہیں کہ یہ کام ناپسند ہے کیوں کہ اگر سادگی کے ساتھ مہمان نوازی کی جائے کہ جسکے لئے وسائل کے خریدنے میں بھی دقت پیش نہ ائے تو پھر کیا حرج ہے؟  
 

یہ تمام کام تجملات میں شمار کئے جاتے ہیں جو ایک دوسرے پر فخر ومباھات کی بناء پر وجود میں اتے ہیں مثال کے طور پر صبح کسی سے ملاقات کی غرض سے جاتے ہیں اورانکی مہمان نوازی کے طریقے کو دیکھ کر جب شام کے وقت وہی لوگ اتے ہیں تو پوری پوری کوشش کی جاتی ہے کہ اسی طرح مفصل اورمہنگے وسائل انکے لئے بھی فراھم کئے جائیں تاکہ ان سے پیچھے نہ رہ سکیں کہ یہ سارے کام در حقیقت گناہ ہے اور ایک بہت بڑی مصیت یہ ہےکہ  سب پر لازم ہے کہ اس تجملات میں شریک رہیں اگر کوئی خانوادہ ،فیملی خود کو اس سے الگ کرنا چاھے تو نہی کرسکتا.   
 

 پیامبر اکرم «صلّی‌الله‌علیه‌وآله‌وسلّم» نے آخر الزمان کے لوگوں کے سلسلے میں فرمایا :  «یُعَیِّرُونَهُ بِضِیقِ الْمَعِیشَة» [2] یعنی اس سےکہتے ہیں: دیکھا دوسروں نے کس طرح کا اھتمام کیا ؟ اور اسے اسکی سادگی حیات کی بناء پر مزمت کرتے ہیں.

گزشتہ سال ساده زیستی اور سادگی حیات کا سال تھا اگر سب میدان میں اترے ہوتے تواس اشراف ‌گری اور تجملات و تشریفات کا جڑ سے خاتمہ ہوگیا ہوتا اور اسراف وتبذیرو تجملات کے بجائے برابری کا قانون حاکم ہوتا اوراج ھمارے معاشرے میں فقرفاقہ بھی موجود نہ ہوتا .

اس ایام نوروز کی چھوٹیوں میں تجملات کا ایک نمونہ بعض گھرانوں کا سختوں کے باوجود سفر پر اسرار ہے ایسے سفر جو بعض اوقات بی‌حجابی ، بی‌عفّتی اور عورت ومرد کے یکجا ہونے جیسےگناہوں کے ھمراہ ہوتے ہیں اوریہ سب نہ بھی ہوں تو بھی کم ازکم دشوریاں تو قطعا ہیں ہی ، کبھی ان سب کی بناء پرگھرکا ذمہ دار مرد مقروض ہوجاتا ہے ، تفریح وخوشی ضروری امر ہے ، اچھی چیز ہے جیسے ضرور رہنا چاھئے مگر تجملات ، بے جا اخراجات اوراپنے اور دوسروں کے لئے دشواریوں کا ایجاد کرنا پسندیدہ چیز نہی ہے، ان بہت سارے سفر میں خوشی اور تفریح نہی ہے بلکہ کچھ دنوں کی تھکن اور بے خوابی ہے یہاں تک کہ اپنے گھروں تک واپس پلٹ ائیں .   
  

اسلام تجملات کو ایک بڑی مصیبت بیان کرتا ہے اور اس کے مقابل لوگوں کو معنویات کی دعوت دیتا ہے کہ جوبرابری کا قانون ہے برابری کا قانون یعنی اگر پیسہ اورمال ہے تو ایک اندازہ بھر خرچ کرو اورباقی پیسے سے نیازمندوں کی ضرورت کو پورا کرو .

اگر کوئی ایک گھر کسی محتاج کے لئے فراھم کرے یا ایک لڑکی کے لئے جھیز کا انتظام کردے جس کی اس جھیز کی بنیاد پر ابھی تک شادی نہی ہوسکی ہے ، اس میں ایک خاص اھمیت اور لذت کا حامل ہے .

اسلام نے اس لذت کو اسراف و تبذیر جیسے گناہوں کے مقابل نہی قرار دیا اس نے اسراف و تبذیر، تجملات و تشریفات جیسے امورکے لئے سزا اورعذاب شدید  کے لئے کہا اورلوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے ، بیکسوں کی رسیدگی کرنے ، محتاجوں کی دستگیری کرنے میں اس نے کم سے کم ایک حج مقبول اور عمرہ مقبول کا ثواب رکھا ہے ، اپ جانتے ہیں حج مقبول اور عمرہ مقبول ھر ایک ملین لوگوں  میں ایک ادمی کو بھی مشکل ہے حاصل ہو . 

 بھائیوں اور بہنوں فقراء کے لئے زندگی دشوار ہوگئ ہے میں عزت دار گھرانوں کو جانتا ہوں جوھر ماہ ایک باراچھی غزا نہی فراھم کرسکتے اگر اپ عیش میں زندگی بسرکررہے ہیں تو جولوگ اپنی زندگی کی ضرورت کی ابتدائی چیزیں نہی فراھم کرسکتے انہیں نہ بھولیں جوکافی مقدار میں ہیں .

 
باعزت فقراء کی دست رسی سبھی کی ذمہ داری ہے . قرآن نے‌فرمایا:

«لِیُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهُ فَلْیُنْفِقْ مِمَّا آتاهُ اللَّهُ»[3]


ھر کوئی اپنی استطاعت کے بقدر دوسرے کی دست رسی کرے .

انسان سوچ بھی نہی سکتا کہ بعض گھرانے ھر ماہ اچھی غزائیں نہی کھا سکتے ،  مفلس گھرانے کے بچے اسکول سے گھر تک پیدل اتے ہیں اور راستے میں انکی نگاہ جب دکانوں میں سجے پھلوں پر پڑتی ہے اورگھر میں پہونچ کرانہیں کچھ بھی نہی ملتا ہے توانکی مائوں کوشرمندگی ہوتی ہے اوربچوں سے ماں باپ کی یہی شرمندگی تجملات میں گھرے افراد کے جھنم کی اگ فراھم کرتی ہے کہ وہ دوسروں کی دست گیری کرسکتے تھے مگر نہ کی.
     

طبقاتی اختلاف جو معاشرے میں حاکم ہے بہت غلط ہے اگر سب ایک دوسرے کی فکر میں رہیں اوراضافی امدنی کو اپس میں تقسیم کرلیں تو یہ اختلاف ختم ہوجائے گا افسوس بہت سارے گھرانے اپنے اوراپنے خانوادے کی فکر میں لگے ہیں اور ابروداری کے نام پر تجملات میں مشغول ہیں جبکہ شاید وہ واقف نہی ہیں کہ امام زمان «ارواحنا‌فداه»  کے نزدیک بے حیثیت وہ لوگ ہیں جو فقط اپنی شکم پروری اورخود محور ہیں.

امام صادق«علیه‌السلام» ‌فرماتے ہیں : ایسے لوگوں کو میدان محشرمیں لایا جائے گا اس حالت میں کہ انکی انکھیں خوف سے اندر دھنسی ہوئی ہوں گی ، ہاتھوں میں زنجیراور پیروں میں بیڑیاں پڑی ہوں گی اورانکی پیشانی پر لکھا ہوگا : «آیِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ» [4] اس کے بعد خداوند اسے رسواکرے گا اور کہے گا : ھمارے نزدیک منفور ہے ، اس نے میرے اور میرے رسول اور ائمه طاهرین علیھم السلام اور مسلمانوں اورمومنین کے حق میں خیانت کی  ہے.  

اسکے بعد خداوند تفصیل کو بیان کرتے ہوئے کہے گا : وہ ، وہ ہے جو جو لوگوں کی ضرورتیں پوری کرسکتا تھا مگر ایسا نہی کیا .

اگر تجملات سے بھری زندگی اچھی ہے توپھرسب کے لئے اچھی ہونا چاھئے اور اگر بری ہے تو پھر سبھی کے لئے بری ہونا چاھئے ، اپ کی لڑکی اور اپکے خاندان کی دیگر لڑکیوں اور پڑوسی کی لڑکی کے درمیان کیا فرق ہے ، اس طرح کا جہیزاور اس مقدارمیں مھر کی رقم اپکی صاحب زادی کے لئے اور اس غریب کے بچے کے لئے اس طرح کے امکانات ؟ وہ اجتماعی مصیتیں جوسبھی کے دامن گیر ہیں تبعیض اورطبقاتی اختلافات کی بناء پر نازل ہوتی ہیں ، محتاجوں اور نیازمندوں کی فریادرسی نہ کرناہی اس کی بنیاد ہے.  
    

قرآن کریم میں واجب خمس و زکات کے سلسلے میں ھر ایک کے لئے ایک ایک ایت موجود ہے مگر محتاجوں اور مفلسوں کی دسترسی کے حوالے سے ھزاروں ایتیں موجود ہیں مگر معاشرے نے ان ایات کو اور قران کریم کی اس تاکید کو طاق پر رکھ دیا ہے. 

قرآن کریم کی فرمائش کے مطابق اگر معاشرے میں یتیم موجود ہو اور اسکے چھرے پر گرد یتیمی جمی ہوتو وہ معاشرہ بے ایمان اور بے دین ہے. 


«بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ‏ ، أَ رَأَیْتَ الَّذی یُکَذِّبُ بِالدِّینِ ، فَذلِکَ الَّذی یَدُعُّ الْیَتیم» [5]

اگر یتم بچوں کے پاس شب عید نیا لباس نہ ہواور گرد یتیمی انکے چھرے پر ہو تو مسلم معاشرہ مسلمان نہی ہے سب یتیم بچوں کو اپنے بچوں کے مانند باعظمت جانیں اور انکی کفالت کو اپنے ذمہ لیں.

سبھی کو دوسروں کا خیال کرنا چاھئے یتیموں ، فقیروں ، مسکینوں کی دست رسی کرنی چاھئے ، تجملات کے بجائے ناداروں کی ضرورت زندگی کی ابتدائی چیزوں کو فراھم کرنا چاھئے قرآن کریم فرماتا ہے وای ہو ان لوگوں پر جو کسی کی دست رسی کرسکتے تھے مگر نہی کی .  

«الَّذینَ هُمْ یُراؤُنَ ، وَ یَمْنَعُونَ الْماعُونَ» [6]

افسوس اس دنیا کے لوگ اسراف پسند ہوگئے ہیں اور اب ایک نئے انقلاب کی ضرورت ہے سب مل کردعا کریں کہ حضرت ولی عصر«ارواحنافداه» تشریف  لے ائیں تاکہ یہ جھنم بنی دنیا بہشت کا رنگ لے لے اس دن کی امید کے ساتھ ان شا الله.

«والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته»

مسجد حکیم اصفهان

ـــــــــــــــــــــــــ

منابع :


1-‌ نهج‌البلاغه، کلمات قصار 428
2-‌ مستدرک الوسائل، ج 11، ص 387
3-‌ طلاق / 7
4-‌ من لایحضره الفقیه، ج 4، ص 94
5-‌ ماعون / 2-1
6-‌ ماعون / 7-6

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬