حسنین باقری:

نوروز یعنی نیا دن، یہ ایرانی سال کا پہلا دن ہے اس دن ایران میں بہت ہی جوش وخروش سے عید منائی جاتی ہے اس سے قطع نظر اس دن بہت سے واقعات رونما ہوئے۔اسلامی نقطہ نظر سے اس دن بعض اعمال بھی وارد ہوئے ہیں لہٰذا ذیل میںاسی سلسلے میں بعض روایتیں نقل ہیں.
زادالمعاد میں امام جعفر صادق کے خاص صحابی معلی بن خنیس سے روایت ہے کہ میں نوروز کے دن حضرت امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت نے مجھ سے فرمایا: کیا اس دن کو جانتے ہو؟ میں نے کہا آپ پر قربان جاؤں،اس کا فارس (ایرانی) بہت احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں.
امام نے فرمایا مکہ میں موجود بیت عتیق کی قسم اس سلسلے میں بعض باتیں ہیں جو تم سے بیان کرتاہوں: پھر آپ نے فرمایا: اے معلی نوروز وہ دن ہے جس دن خدا نے اپنے بندوں سے عہد وپیمان لیا کہ صرف اسی کی عبادت کریں اور کسی کو اسکا شریک قرار نہ دیں اور خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء وائمہ طاہرین علیہم السلام پر ایمان لائیں،اسی دن سے سورج نکلنا شروع ہوا ہوائیں چلنی شروع ہوئیں،اسی دن پھول کھلنے کی ابتدا ہوئی،اسی دن حضرت نوح کی کشتی کوہ جودی سے لگی، خدا نے اسی دن ان لوگوں کو زندہ کیا جنکا تذکرہ قرآن میں ہے ( جو لوگ موت کے خوف سے اپنے گھروں سے بھاگے اور وہ ہزار آدمی تھے .
خدا نے ان سے کہا؛ مرجاؤ پھر خدا نے ان کو زندہ کیا اور انکی زندگی کاقصہ بعد میں آنے والوں کے لئے عبرت قرار پایا) نوروز ہی کے دن حضرت جبرئیل پیغمبر ۖ پر نازل ہوئے ،اسی دن پیغمبر اسلام ۖ نے حضرت علی(ع) کو اپنے کندھوں پر سوار کیا تا کہ بتوں کو توڑیں حضرت ابراہیم (ع) نے اسی دن بتوں کو توڑا،اسی دن پیغمبرۖ نے اپنے اصحاب کوحکم دیا کہ حضرت علی (ع) کی بیعت کریں،اسی دن حضرت علی کو وادی جن بھیجا تا کہ ان سے بیعت لیں،اسی دن لوگوں نے دوسری مرتبہ حضرت علی کی بیعت کی، اسی دن حضرت علی خوارج و نہروان پر فتحیاب ہوئے، ذوالثدیہ اسی دن قتل ہوا، اسی دن ہمارا قائم عج ظہور کرے گا اور دجال پر غلبہ حاصل کرکے اسکو کوفہ میں دار پر لٹکائے گا اور ہم ہر سال نوروز کے دن اسکے ظہور کے منتظر رہتے ہیں اس لئے کہ یہ دن ہمارے شیعوں کے دنوں میں شمار ہوتا ہے۔
پھر حضرت صادق (ع) نے فرمایا: ایک نبی نے خدا سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو زندہ کرے جو ایک ساتھ نکلے تھے اور راستہ میں سب مرگئے پس خدا نے اپنے نبی کو وحی کی کہ نوروز کے دن انکی قبروں پر پانی چھڑکیں اور انھوں نے ایسا ہی کیا وہ سب کے سب جو تیس ہزار تھے زندہ ہو گئے اسی دن سے نوروز کے دن پانی ڈالنا سنت ہوگیا (نوروز کے دن پانی چھڑکنا، گلاب ڈالنا سنت ہے، رنگ ڈالنا سنت نہیں ہے یہ ہندوؤں کی رسم ہے جو افسوس ہے کہ ہمارے درمیان رائج ہو گئی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کام سے بچا جائے)
اسی طرح عمدة الزائر میں معلی بن خنیس نے حضرت صادق سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا؛ نوروز کے دن اپنے کو پاک و صاف کر کے اچھا اور پاکیزہ لباس پہنو اور اپنے کو آراستہ کرو اور اس دن روزہ رکھو، اور اس دن ظہر وعصر کے نوافل پڑھنے کے بعد چار رکعت نماز اس طرح پڑھو کہ پہلی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ قدر اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ کافرون اور تیسری رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید اور چوتھی رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ معوذتین (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) پڑہ کر سلام پھیرنے کے بعد سجدۂ شکر بجا لاؤ اور مندرجہ ذیل دعا پڑھو کہ خدا وند عالم اس دعا کی وجہ سے پچاس سال کے گناہوں کو بخش دیگا۔
علیھم بافضل برکاتک وصلّ علی ارواحھم واجسادھم اللھم بارک علی محمد وآل محمد وبارک لنا فی یومنا ھٰذا الذی فضلتہ وکرمتہ وشرفتہ وعظمت قدرہ، اللھم بارک لی فیھا انعمت بہ علی حتی لااشکر احداً غیرک ووسعّ علّی رزقی یاذالجلال والاکرام، اللھم ماغاب عنی یغیبن عنی عونک وحفظک وما فقدت من شیی ئٍ فلا تفقدنی عونک علیہ حتی لا اتکلف مالا احتاج الیہ یاذالجلال والاکرام وصلی اللہ علی محمدو الہ الطیبین الطاہرین والحمدللہ رب العالمین اور ''یا ذوالجلال والاکرام'' کی تکرار بہت زیادہ کی جائے۔
اسی طرح علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں ذکر کیاہے کہ تحویل سال کے وقت اس دعا کے پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے ''یامقلب القلوب والابصار یا مدبر اللیل والنھار یامحول الحول والاحوال حول حالنا الیٰ احسن الحال'' اور اس سلسلے میں نقل کیا گیا ہے کہ اس دعا کو زیادہ پڑھو اور بعض روایات میں آیا ہے کہ ٣٦٦ مرتبہ اس دعا کو پڑھے اسی طرح دوسری روایت میں ذکر کیا ہے کہ تحویل سال کے وقت یہ دعا پڑھے ''اللھم ھٰذاہ سنة جدیدة وانت ملک قدیم اسئلک خیر مافیھا واعوذبک من شر ما فیھا واستقبلک مئو نتھا وشغلھا یا ذالجلال والاکرام'' اور اس کو سال کے دنوں کے برابر (٣٦٦ بار) پڑھنا چاہئے۔
اسی طرح حضرت علی سے نقل ہو اہے کہ آپ نے فرمایا: ایک سال تک تمام بیماریوں اور آفات سے محفوظ رہنے کے لئے نوروز کے دن ہفت سین کو گلاب اور زعفران سے چینی کے برتن پر لکھے اور اس کو دھو کر پیے ہفت سین یہ ہیں: ''سلام قولاً من رب الرحیم، سلام علی نوح فی العالمین سلام علی ابراہیم، سلام علیٰ موسی وھارون، سلام علی ال یاسین، سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین، سلام ھی حتی مطلع الفجر۔ (البتہ بعض نسخوں میں سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین'' کے بجائے آیت ''سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار'' آیا ہے.)
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے