
ڈاکٹر شریف لک زائی ، ثقافت وتفکر اسلامی ریسچر سنٹر کے رکن نے رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر سے گفتگو میں بارک اوباما کی دھمکیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ مسئلہ ایک خاص پیچیدگی کا حامل ہے کیوں کہ ایک طرف امریکا نے خود کو ایٹمی اسلحےسے استفاہ کرنے میں محدودیت پر موظف کررکھا ہے اوردوسری طرف سے ایران اور کره شمالی کو ایٹمی اسلحے کی دھمکی دے رہا ہے.
انہوں نے کہا : ھمیں دیکھنا چاھئے کہ امریکا کے اندران دھمکیوں کا اثر ہوتا ہے کیوں کہ کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ اوباما نے اپنی اقتصادی مشکلات کی بناء پر ایک طرح کا رخ اپنایا ہے .
انہوں نے مزید کہا : ایک دوسرا نظریہ ہے کہ دنیا خصوصا خاورمیانہ میں امریکا کی حالت نازک ہوگئی ہے اور خاورمیانہ میں امریکا اپنے اھداف کو حصل نہی کرسکا ہے اور دوسری طرف ایران منطقہ کی ایک قدرت بن کر سامنے ایا ہے لھذا امریکا نے اپنے بیان میں اس طرح کی تبدیلی ایجاد کی ہے .
انہوں نے کہا : ایٹمی اسلحے سے خلع سلاح ہونے کے سلسلے میں امریکا کے موقف میں تناقض موجود ہے اور وہ یہ کہ تنھا وہ ملک جس نے خود ایٹمی اسلحہ استعمال کیا ہے وہی خلع سلاح کا سب سے بڑا مدعی ہے .