13 April 2010 - 11:59
خبر کا کوڈ: 1185
فونت
سفرکی رپورٹ :
رسا نیوزایجنسی – رهبرمعظم پل پرمنڈیر پہ تکیہ دے کھڑے تھے اپ کی پشت پہ نھررواں داوں تھی سارے لوگ اپ کے اطراف گھیرا لگائے تھے اوربڑے غور سے اپ کی باتوں پہ کان دھرے تھے اپ کے ساتھ جانے والوں میں سے ایک صاحب کا بچہ بھی ان کےساتھ تھا اس بچہ کی جانب اشارہ کرکے اپ نے فرمایا : دھیان رکھئے گا کہ کہیں یہ گم نہ ہوجائے .
رهبرمعظم انقلاب اسلامي جنگي علاقے کرخه، فتح‌المبين

 

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، رھبر معظم کی خبر رسا ں سائٹ نے علاقہ جنوب ، جنگی علاقےاورراهیان نور کے درمیان اپ کے سفر کی رپورٹ منتشر کی  

اس رپورٹ میں ایا ہے :
روانگی سے پہلے میں نہی جانتا تھا کہ کہاں کاسفر ہے ، یعنی یہ نہی
پتا تھا کہ صوبہ خوزستان میں کہاں جانا ہےایک ادمی نےشلمچہ سے فون کیا کہ یہاں خبرپھیلی ہوئی ہے کہ رھبر شلمچہ انے والے ہیں ، مجھے فقط یہ معلوم تھا جنوب جارہیں ہیں ، فقط یہی ، جب مینی بس پر بیٹھا توھم سبھی کے موبائل لے لئے گئے اور پھر ھم لوگ تھے اور ھم ہی لوگ   

فلائٹ نے اڑان بھری اورپھر اترتے وقت شھر دزفول کےائرپورٹ پراترنے کی خوش امدید کہی گئی اس وقت تھا کہ ھم سبھی نے اپ نے اطراف میں نگاہ ڈالی ، فکروں کو برو کار لائے ، دزفول کے نزدیک جنگی علاقہ کو سمجھنا چاھا مگردریای افکارمیں غوطہ ورذھن کو تہ نہ لم سکی

ھوا کے تھپڑے گرمی کا احساس دلا رہے رات اس وقت 27 ڈگری ٹمپریچر تھا ، ایک بس کے ذریعہ ھوٹل پہونچے ، میرے والد بزرگوار نی وی میں افیسر تھے ، مجھے پتہ تھا کہ نی وی میں ھٹل نام کی کوئی اقامت گاہ نہی ہے ، وہ جگھیں جہاں نی وی کے افیسر حضرات قیام کرتے ہیں اسےمسافر خانے سے بہت نہی کہا جاسکتا 

مگربقیہ سبھی خوش وخرم تھے کہ زندہ رہے کہ ایک بار سہی رھبر معظم کے ساتھ کہیں جاسکے اور رات ھوٹل میں بسر کی ، ھم سبھی کوچوتھے منزلے پہ قیام کرنے کوکہا گیا اور وہ بھی بغیر لفٹ کے ، دو بڈ کے کمرے جس میں دوہی تخت تھا اور فقط دو عدد کمبل ، ایک چھوٹاسا قالیچہ ، کپڑا ٹانگنے کا ایک اسٹینڈ ، دوجوڑا پلاسٹک کی چپل بھی تھی کہ اس میں سے ایک جوڑا خستہ حالت میں تھی ، لیٹرینگ اورحمام مشترکہ طورپرگیلری میں تھا ، خلاصہ میں بیان کروں کہ جولوگ فوجی ٹرینگ پہ گئے ہیں بہتر جانتے ہیں کہ یہ ایک فوجی ٹرینگ سینٹر سے کچھ زیادہ اچھا نھی تھا ہاں فقط اسکے تخت دو منزلہ نہی تھے    

 

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬