
رسانیوز کے رپورٹر کے رپورٹ مطابق سیمینارکے پہلے دن اتر پردیش اسمبلی کے اسپیکر سکھ دیو راج بھر نے کہا : اقلیتوں کو اپنے بچوں کو ذہنی طور پر تعلیم کے لئے تیار کرنا چاہئے کیونکہ اگر خود جذبہ نہیں ہوگا تو ادارہ چاہے جتنا بڑا قائم کرلیا جائے کچھ حاصل بھی حاصل نہیں ہوگا۔
اسپیکرنے کہا : اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی ٢٢ سے٢٣فیصد ہے اس کے باوجود ان کی نمائندگی صرف دو سے تین فیصد ہے۔
انہوں نے کہا : مسلمانوں کو اقتدار میں حصہ داری کے لئے سیاست میں بھی آنا چاہئے،مقابلہ کے اس دور میں دماغ سے کام لینے کی ضرورت ہے ہنگامہ کرنے سے کچھ بھی نہیں حاصل ہوگا۔
افتتاحی اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مہاراشٹرہ کسموپالیٹن ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر جناب بی اے انعامدار نے کہا : اب کچھ کرنے کا وقت ہے اس لئے مسلمانوں کی حالت زار کا تذکرہ کرکے اپنی توانائی ضائع نہ کریں۔
جناب انعامدار نے دستور ہند کے بنیادی حقوق آرٹیکل ۳۰ پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مذہبی اقلیت کی حیث سے مسلمانو ں کا ملک میں تعلیمی ادارے قائم کرنا اور انہیں اپنی مر ضی سے چلانا ان کا بنیادی حق ہے،مرکزی یا ریاستی حکومت اپنے کسی فیصلہ سے اس حق کو چھین نہیں سکتی ہے۔
انہوں نے کہا : مسلمانوں کی تعلیمی بیداری کے لئے آئندہ پانچ برس کے لئے منصوبہ بند تحریک چلانی ہوگی،اور ٹکنالوجی کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کی تعلیم کے سلسلے میں بحث کرنا چاہئے۔
اتر پردیش اقلیتی کمیشن کے صدر ایس ایم اے کاظمی نے کہا : موجودہ حالات میں یہ کانفرنس بہت ضروری تھی۔
انہوں نے کہا : سرکاری منصوبوں کا نفاذ ہی وہ پہلو ہے جس پر سبھی کو شکایت ہے، اور دوسری بڑی وجہ بیداری نہ ہونا ہے۔
دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین کمال فاروقی نے کہا : رونا بہت ہوگیا اب شکایتی دور سے نکل کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اسکیموں سے کس طرح فائدہ اٹھایا جائے اور اس راستہ میں آنے والی رکاوٹوں کس طرح دور کیا جائے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
دارالعلوم ندوة العلماء کے مہتمم مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی نے کہا : قوم کو اقلیت اور اکثریت کے مصنوعی خانوں میں تقسیم کرکے سیاست کرنا مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم دو چیزوں سے غافل ہیں۔ پہلے تو ہم شکر ادا کرنے کے بجائے صرف شکوہ کرتے ہیں۔
مولانا سعید الرحمان نے کہا : ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرے اور دوسری بات یہ کہ ہم نے محنت کرنا چھوڑ دیا ہے،مانگنے کی عادت ہمیں چھوڑ دینا چاہئے۔
مولانا نے کہا کہ آج ہم ریزرویشن کی بھیک مانگ رہے ہیں جو ہمارا انتہائی احمقانہ عمل ہے۔
اردو عربی فارسی یونیورسٹی کے نو منتخب وائس چانسلر وسبکدوش آئی اے ایس انیس انصاری نے کہا : مسلمان و دیگر پسماندہ طبقات کے بچوں کا داخلہ پرائمری اسکولوں میں کم ہوتا ہے، والدین کے ساتھ ہی رضا کارانہ تنظیمیں بھی اس پر خصوصی توجہ دیں۔
انیس انصاری نے کہا : آنے والی نسل ہمارے ملک کا مستقبل ہے اس لئے انہیں پرائمری سطح سے عمدہ تعلیم دلانی چاہئے تا کہ وہ آنے والے وقت میں اہم مقام حاصل کرسکیں۔
انہوں نے کہا : غریب والدین کو بیدار کرنا ہوگا کیونکہ غریب والدین اپنے بچوں کو کام پر لگادیتے ہیں۔
این بی آر آئی کے سبکدوش سائنسداں ڈاکٹر اقتدار حسین فاروقی نے کہا : آج کل اکسیلنس کا زمانہ ہے اس لئے ہمیں خود کو بہترین بنانا ہوگا۔
کرامت گرلس کالج کے شعبہ فارسی کی صدر رخسانہ لاری کے ذریعہ خواتین کی تعلیم میں تفریق اور ان کے لئے علیحدہ تعلیمی اداروں کی ضرورت پر اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹرفاروقی نے کہا : خواتین کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے علیحدہ تعلیمی ادارے کھولنا چاہئے، فرانس سمیت کئی ملکوںمیں خواتین کیلئے علیحدہ تعلیمی ادارے ہیں۔
انہوں نے کہا : اگر ہم خواتین کو تعلیم سے محروم رکھیں گے تو خاطر خواہ ترقی سے محروم رہ جائیں گے، بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج پور ی دنیا میں اقلیتوں کے مردوں کے مقابلہ خواتین کی تعلیمی خواندگی ٣٠فیصد ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے ڈین و صدر پروفیسر شبیر احمد نے کہا : اقلیتوں کو قانون کی تعلیم حاصل کرنا چاہئے تا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ ضرورت مندوں کی خدمت انجام دے سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں رجسٹرڈ ١٠ہزار وکیلوں میں اقلیتوں کی تعداد پانچ سو سے بھی کم ہے۔ اسی طرح ججوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ اس میں بھی اضافہ کی ضرورت ہے۔
سیمنار کے دوسرے اور آخری روز اقلیتوں کی تعلیم میں اصلاح کے آزاد تعلیمی بورڈ ،مدرسوں میں ہندی، انگریزی اور سائنس کی تعلیم ،ڈی پی ایس جیسے کالج سرسید کے نام سے کھولے و دیگر موضوع بھی اٹھائے گئے۔
انٹیگرل یونیورسٹی کی ڈاکٹر زیبا عقیل اورڈاکٹرہما مصطفی نے خواتین کی تعلیم پر زوردیتے ہوئے کہا : خواتین کی تعلیم کے لئے علماء دین اورماہرتعلیم کو بات چیت کرنی چاہئے۔
انہوںنے کہا : جو لڑکیاں مخلوط تعلیم میں نہیں پڑھ سکتیں ان لڑکیوں کیلئے الگ سے پروفیشنل انسٹی ٹیوٹ کھولنے کی ضرورت ہے۔
تمام مقررین نے اتفاق رائے سے اس بات کوتسلیم کیا کہ کچھ مسائل سرکاری اسکیموں کے نفاذ میں تو کچھ کوتاہی مسلم سماج میں ہے۔اقلیتوں خصوصاََ مسلمانوں کے لئے مخصوص سرکاری اسکیموں کے فائدے ان تک نہیں پہونج پاتے۔
دانشوروں نے اس بات پر زور دیا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ مسلمان خود سرکاری منصوبوں پر نظر رکھیں، بنیادی تعلیم کی شرح کم کریں، حکومت میں اہم عہدوں پر فائز افراد نے افسوس ظاہر کیا کہ مسلمانوں کی فلاح کے لئے کئی اسکیمیں ہیں لیکن بیشتر افراد کو یہ علم ہی نہیں کہ انکی فلاح و بہبود کے لئے منصوبے بھی چلائے جارہے ہیں۔
دو روز تک چلے اس اجلاس میں ملک کے معروف ماہرین تعلیم ، دانشور اور علماء نے اپنے اپنے خیالات اور ریسر چ پیپرس پیش کئے۔