
رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق شیعہ فقہ کی نگاہ میں جنسیت کی تبدیلی کے موضوع پر فقهی تخصصی نشست مرکز تخصصی فقه و اصول اهل بیت (ع) کے مدد سے ۲۶ مئی ۲۰۱۰ قم میں انعقاد ہوا ۔
حجتالاسلام محمد مهدی کریمی نیا حوزہ علمیہ قم کے استاد کتاب « جنسیت کی تبدیلی فقه و حقوق کی نگاہ میں » کے مؤلف نے اس تخصصی نشست میں تبدیل جنسیت کی اصطلاحی تعریف کے طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بیان کے ساتھ کہ امام خمینی (ره) تبدیل جنسیت کے فقہی مسائل کے موجد تھے اظہار خیال کیا : حضرت امام خمینی (ره) نے پہلی مرتبہ تغیر جنس کے سلسلہ میں دس مسئلہ کو تحریر الوسیلہ میں بیان کیا اور سال ۱۹۸۰ میں ایک مریض نے اپنی تکلیف واضح کرنے کے لئے رجوع کیا تھا جس کا جواب انہوں نے فتوی کی صورت میں اس کے جائیز ہونے پا دیا ۔
انہوں نے وضاحت کی : حضرت امام خمینی (ره) کے فتوی کے بعد اس مسئلہ میں ایک انقلاب پیدا ہوا اور ۲۲ مراجع و علماء نے اس مسئلہ میں اپنا نظریہ پیش کیا اور بعض فقھا نے مقالہ بھی لکھا ہے ؛ آج بھی قائد انقلاب اسلامی اور کچھ مراجع جیسے حضرت آیتالله مکارم شیرازی تبدیلی جنسیت کے قائل ہیں ؛ لیکن اھل سنت سوره نساء کی ۱۱۹ویں آیت پر اسناد کرتے ہوئے تبدیلی جنسیت کو خلقت میں تبدیلی جانتے ہوئے اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔
حوزہ علمیہ قم کے اس محقق نے اظہار کیا : تبدیلی جنسیت کی بیماری ایک روانی بیماری ہے کہ شخص گر چہ مرد ہے لیکن خود میں زنانگی پاتا ہے یا اگر عورت ہے لیکن خود میں مردانگی کا احساس کرتی ہے، اس سلسلہ میں پیش کی گئی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ھر ۱۰ ھزار لوگوں میں ایک شخص اس بیماری میں مبتلی ہے ۔
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے