وزارت خارجہ کے ترجمان :

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، وزارت خارجہ کے ترجمان ، رامین مهمان پرست نے صحافیوں کے ساتھ اپنی ہفتہ وار نشست میں غزہ کی مظلوم عوام کی حمایت کے حوالے سے ایران کی کوشش کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہا : دنیا کے ممالک غزہ پٹی کا محاصرہ ٹوڑنے کی کوشش کریں کیوں کہ یہ محاصرہ اس بیس روزہ جنگ کا سلسلہ ہے۔
انہوں نے غزہ پٹی تک مدد پہچانے کے لئے بہت سارے ممالک کے تیار ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : بہت سارے ممالک تیار ہیں کہ قافلہ ازادی اور زندگی کے ساتھ مدد لے کرغزہ جائیں اور زمین وفضا اوردریا سے ان مظلوموں تک مدد پہنچائی جائے ۔
انہوں نے ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں کہ اسرائیل کی مزید جنایت بین الاقوامی اداروں کے مقابلہ کا باعث بنے گی کہا : 33 روزه اور 22 روزه جنگ کے بعد غاصب اسرائیل نے کاروان ازادی پر حملہ کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے اور ھمیں یقین ہے کہ یہ غاصب جتنا زیادہ اس طرح کی غلطیاں کرے گا اس کی نابودی کا زمانہ قریب ہوتا جائے گا ۔
مهمان پرست نے ٹائمز پیپر کے حوالے سے ایک دوسرے صحافی کے سوال کے جواب میں کہ اسرائیل کچھ ایٹمی کشتیاں خلیج فارس اور ایران کے بندر سے نزدیک لاکر کھڑا کرنا چاھتا ہے اورجمهوری اسلامی ایران کا اس سلسلے میں اقدام رہا ہے انہوں نے کہا : ھمیں امید نہی کہ اسرائیل اس دلدل میں پھنس نے کے بعد خود کو ہلا بھی سکے گا اور مزید اپنے حق میں خطر مول لےگا اس کے علاوہ اسرائیل جمهوری اسلامی ایران کے مقابل کچھ بھی نہی ہے ۔
انہوں نے تین امریکن جاسوس کا شهرام امیری سے تبادلہ کے سلسلے میں کئے گئےسوال کے جواب میں کہا : ایسے افراد کا تبادلہ جو کوٹ کے حوالے ہیں اور کوٹ ان کے سلسلے میں فیصلہ سنائےگا ایسے ایرانی سے تبادلہ جس نے کوئے جرم نہی کیا مناسب نہی ہے شهرام امیری کو اغوا کیا گیا ہے اور تین امریکن کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیاگیا ہے ۔
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے