ممبئی ھندوستان :

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، کیرلا کے متوپوزا ضلع کے ایک کالج کے لیکچرار کے ذریعہ اپنے امتحانی پرچے میں پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) کی اہانت کے خلاف نامعلوم حملہ اوروں نے لکچرار پر حملہ کرکے اس کا داہنا ہاتھ کاٹ دیا ۔
پولیس کی رپورٹ کے مطابق ، ۵۲ سالہ جوزف توڑا پوزا میں کیتھولک مشنری کے نیوکالج میں لیکچرار ہے گزشتہ اتوار کو جب وہ ایک مقامی چرچ سے عبادت کرکے لوٹ رہا تھا تو اس وقت نامعلوم افراد نے اس پرحملہ کردیا اس کے ساتھ اس کی ماں اور بہن بھی تھیں ۔
جوزف کی بہن اسٹیلا جوزف کے مطابق حملہ اور ایک وین سے اترے تھے جس نے اکر ان کی کار کا راستہ روک لیا تھا وین سے اتر کر حملہ اورا ن کی کار کی طرف بڑھے اور انہوں نے جوزف کو کار میں سے گھسیٹ کر باھر نکالا حملہ اوروں نے دھشت پھلانے کی خاطر کچھ چھوٹے پیمانے کے بمب دھماکے بھی کئے اور اس کی ماں اور بہن کو کار سے باھر نہ نکلنے کی دھمکی دے کر جوزف کو پیٹنے کے بعد دھاردار چاقو سے اس کا داہنا ہاتھ کاٹ دیا اور فرار ہوگئے ۔
جوزف کو فورا کوچی کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہان اس کا علاج جاری ہے پولیس افیسر کی گفتگو کے مطابق ، یہ حملہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا تھا ۔
واضح رہےکہ اپریل ۲۰۱۰ میں جوزف نے ڈگری کے طلبا ء کے لئے بنائے گئےایک امتحانی پرچے میں پوچھے گئے ایک سوال میں پیغمبر اسلام کے حوالے سے نازیبا کلمات استعمال کئے تھے جس پر مسلمانوں نے شدید احتجاج کا مظاھرہ کیا تھا جس صورت حال سے جوزف گھبرا کر روپوش ہوگیا تھا اور کچھ دنوں بعد پولس کے سامنے خود سپردگی کی تھی اور یورنیورسٹی نے بھی اسے ایک سال کے لئے معطل کردیا تھا ۔
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے