قطیف عربستان کےامام جمعه :

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، قطیف عربستان کےامام جمعه ، حجت الاسلام شیخ حسن صفار نے علماء ، متفکرین اور مختلف طبقے کی عوام کے درمیان ایک پروگرام میں جو سیهات عربستان کے ثقافتی سنٹررسول اعظم میں منعقد ہوا عربستان سعودی میں شیعہ کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا : عربستان میں شیعہ کے زیارتی مقامات کی تعمیر ، شیعوں کے اقتصادی وثقافتی مشکلات کا حل ، شیعوں کے خلاف تبعیض وتعصب کا خاتمہ موجودہ مشکلات ہیں جس سے عربستان سعودی کے شیعہ دوچار ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا : اس مشکلات سے روبرو ہونے میں ملک میں تین طرح کے لوگ ہیں ایک وہ ہیں جو منفی کردار رکھے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو ان چیزوں کے لئے خاص اھمیت کے قائل ہیں مگر کوئی اقدام نہی کرتے اور تیسرے وہ گروپ ہے جو اپنے حقوق کی دست یابی میں سرگرم عمل ہیں ۔
حجت الاسلام صفار نے عربستان میں شیعہ مخالفین سےمزید گفتگو پہ تاکید کرتے ہوئے کہا : گفتگو اوردلیلوں کا بیان کرنا انبیاء الھی اور ائمہ معصومین کا شیوہ رہا ہے اور ھماری بھی ذمہ داری ہے کہ ان کے طریقوں کو اپناتے ہوئے دلیل وگفتگو سے دشمن سے مقابلہ کریں کیوں کہ دشمن کی ھم سے دشمنی اس کی جہالت اور نادانی کی بنیاد پر ہے ھم اپنے مخالفین سے یہ نہی کہتے کہ وہ اپنا عقیدہ چھوڑ دیں بلکہ ھم انہیں اپنے عقائدہ سے اشنا کرنا چاھتے ہیں اور اس ملک کی ایک فرد ہونے کے لحاظ سے اپنے احترام کے خواھاں ہیں ۔
قطیف کےامام جمعه نے شیخ البریک کی دعوت کے بعد وھابی علماء کی جانب سے ان کے خلاف شدید اعتراض کئے جانے کے سلسلے میں کہا : اس مدت میں ھمارے خلاف بہت سارے اعتراضات کئے گئے جب کہ ھم نے شیخ البریک سے قطیف میں ملاقات میں ان کے کسی بھی عقائد کی اھانت نہی کی تھی ۔
انہوں نے بیان کیا : ایک دوسرے کے نظریات کو رد اور نقد کرنا سب کا حق ہے اور اس تنقید کی بنیاد پر کسی کی اھانت نہی کرنی چاھئے بلکہ اس کا سب سے اچھا راستہ مستدل جواب ہے۔
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے