
رسا نیوزایجنسی کے رپورٹرکی مشھد مقدس رپورٹ کے مطابق ، حوزہ علمیہ اوریونیورسٹی کے ایک استاد حجت الاسلام محمدجواد ادیبی فرد نے گذشتہ روز ماه مبارک رمضان کی مناسبت صوبہ خراسان رضوی کے مبلغین کے اجتماع میں تبلیغی مھارتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : جدید عرفان بہت اھم موضوع ہے جس نے بہت زیادہ زمینہ فراھم رکھا ہے۔
انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہ اس عرفان کو عرفان کاذب یا مجازی بھی کہتے ہیں کہا : تمام نئے دینی مکاتب چاھے وہ شرقی عرفان ہو چاھے برازیل کا عرفان چاھے ھندوستان کا عرفان کے لئے ایک تعبیر ہے جسے اس کا زیرمجموعہ قرار دے سکتےہیں ۔
حجت الاسلام ادیبی فرد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ عرفان ایک طرح کے مجازی دین ہیں کہا : ناولوں کا پڑھنا جوانوں خصوصا طالب علموں کی سرگرمیوں میں سے ایک ہے جب کہ ملک میں ایرانی ناولیں بہت کم ہیں اور اسلامی عرفان اور ائمہ معصومین کے حیات طیبہ کے حوالے سے ناولیں بلکل موجود نہی ہیں ، یونیورسٹی میں جوانوں کو معارف اسلامی کی کلاسیں جزب نہی کرسکتیں ہیں مگر بیرونی عرفان پر مشتمل ناولیں انہی اچھی طرح جزب کئے ہوئے ہیں ۔
حوزہ علمیہ کے اس استاد نے مبلغین کو حالات اورمعاصر زبانوں سے اگاہ ہونے کی تاکید کرتے ہوئے کہا : جولوگ ھماری باتیں نہی سنتیں ہیں انہی اپنا مخاطب قرار دینا چاھئے والا پرانے لوگوں کو دین دار بنائے رکھنا یہ کوئی ھنر نہی ہے ایک بت شکن ہونا بہت اھم ہےخصوصا ان لوگوں کے حق میں جن میں کا ھر ایک خود کو پیغمبر کہلانا چاھتا ہے ۔
حجت الاسلام ادیبی فرد نے تاکید کی : ھندوستانی عرفان جو اس وقت ھمارے ملک سب سے زیادہ پسند کیا جارہا ہے اس میں نہ خدا مورد قبول ہے اور نہ شریعت اھم ھر انسان کی ذاتی خوشی ہے یہ عرفان دوحصوں میں قدیم وجدید قابل تقسیم ہے جن میں کرشنا ، رام ، یوگانندا اور دلایلاما کا نام لیاجاسکتا ہے اور یوگا ان میں سے اھم ہے ۔
حوزہ علمیہ کے اس استاد نے گھریلو مندروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس وقت کئی ھزار لوگوں کے یوگا تعلیم حاصل کرنے کے شاھد ہیں ، یوگا اگر چہ ابتداء میں ایک اکسرسائز ہے مگریہ فقط ایک ورزش نہی ہے بلکہ در حقیقت اس میں ایک دینی عقیدہ پوشیدہ ہے یعنی جب یوگا انجام دے گا تو اھستہ اھستہ تناسخ کو بھی قبول کرے گا اور پھر دھیرے دھیرے پیغمبر ونماز کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی ۔
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے