16 August 2010 - 16:35
خبر کا کوڈ: 1702
فونت
آیت الله مکارم شیرازی :
رسا نیوزایجنسی - حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے ایات ورویات کے ائینہ میں اقتصادی مفاسد کو سماجی مفساد کی بنیاد بتاتے ہوئے کہا : جب کسی معاشرے کی اقتصادیات خراب ہوتی ہے چاھے دھوکھے بازی ہوچاھے سود خوری ہو چاھے معاملے میں خیانت ہو سماجی مفاسد کا نیز سبب بنے گا ۔
آيت الله مکارم شيرازي

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقلید میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے اج نماز ظھر وعصر کے بعد حرم کریمه اهل بیت حضرت معصومہ (ع) میں سیکڑوں نمازیوں کے مجمع میں تفسیر قران کریم کی گفتگو میں کہا : جن ایات میں قران کریم نے اصحاب مدین کا ذکر کیا ہے وہ درحقیقت قوم شعیب کے افراد ہیں جن کی حالات زندگی کا تذکرہ کا سورہ ھود میں کیاگیا ہے۔

انہوں نے تمام انبیاء الھی کا مشترکہ مقصد بت پرستی سے مقابلہ بیان کرتے ہوئے کہا : انبیاء الھی نے مختلف طریقہ سے بت پرستی کا شدید مقابلہ کیا ۔

حوزه علمیه قم کے اس معروف استاد نے کہا : قوم شعیب بت پرست بھی تھی اور اقتصادات کی دنیا میں بھی بہت زیادہ مفاسد کا شکار تھی اور حضرت شعیب (ع) نے ان کی اصلاح کے قدم اگے بڑھایا اور انہیں راہ راست کی دعوت دی ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے آیات قرآن کریم کے ائینہ میں اصحاب مدین کی حالات زندگی کو بیان کرتے ہوئے کہا : حضرت شعیب اپنی قوم کو اپنے کرداراورمعاملے میں عدل وانصاف کی دعوت دی تھی ۔

انہوں نے مارکیٹ میں غلط طریقوں کےرواج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : افسوس کچھ لوگ خراب مال کے اوپراچھے مال سجا دیتے ہیں اور اس اچھے مال کے ذریعہ خراب مال کی خرابی کو پوشیدہ کردیتے ہیں ۔

اس مرجع تقلید نے معاملات میں دھکوکہ برکتوں کے ختم ہونے کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا : اچھی چیزوں میں خراب اشیاء کا ملاکر بیچنا قحطی اور خشکسالی کے اسباب فراھم کرتی ہے کہ مسلمانوں کو اس سے حتما پرھیز کرنا چاھئے۔

حوزه علمیه قم کے اس معروف استاد نے تاکید کی : اس طرح کے معاملات کے ذریعہ بدست ائی امدنی سے نماز وروزوغسل وزیارت وحج نہی کیا جاسکتا لھذا انسان کو معاملات میں سچائی اور انصاف سے کام لینا چاھئے ۔
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬