شاھی امام سید احمد بخاری:

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کی مطابق ، شاھی امام سید احمد بخاری نے ارایس ایس چیف موھن بھاگوت کے بیان پرکہا : بابری مسجد کے فیصلے میں قانون کو ہاتھ میں لینے کوشش کی گئی توحکومت کو سخت حالت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
سنی جامع مسجد کے شاھی امام سید احمد بخاری نے تاکید کی : بابری مسجد ملکیت مقدمہ کے فیصلے کے بعد اگر فسطائی طاقتوں نے رام مندر کی تعمیر کے معاملے پر قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو ملک میں جنگل راج ہوجائے گا۔
انہوں نے ارایس ایس چیف موھن بھاگوت کے اس بیان پر کہ اگر رام مندر کی تعمیر اتفاق رائے سے ممکن نہ ہوسکی تو مندر بزور طاقت تعمیر کیا جائے گا شدید رد عمل ظاھر کرتے ہوئے شاھی امام نے وزیر اعظم کے نام ایک خط میں لکھا : بابری مسجد ملکیت مقدمہ کا فیصلہ وسط ستمبر میں متوقع ہے اس فیصلے کے پیش نظر ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اورمنافرت پیدا کرنے کے لئے ارایس ایس ، وشوھندوپریشد ، اوربجرنگ دل جیسی تنظیمیں اپنی فسطائی ذھنیت کا ایک بار پھر کھل کر مظاھرہ کررہی ہیں ۔
انہوں نے خط میں تحریر کیا : 6 دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد بزور طاقت شھید کرنے کے بعد اب یہی طاقتیں اجودھیا میں طاقت کے ذریعہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی بات کررہے ہیں ۔
مولانا بخاری نے ار ایس ایس کے سربراہ موھن بھاگوت کو عدالت کا فیصلہ کسی طور پر تسلیم نہ کرنے کے اعلان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان فسطائی طاقتوں کو عدلیہ ، ائین ، قانون وانتظامات سے کھلواڑ کرنے کی چھوٹ دی گئی تو پھر اس ملک کو جنگ راج سے بچانا نا ممکن ہوگا اور ایسی صورت میں ملک کو بھی ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے کوئی نہی بچا سکتا ۔
مولانا بخاری نے کہا : ملک کے اتحاد ، قومی ایک جہتی اور فرقہ وارانہ ھماھنگی کے مفادات کو ذھن میں رکھتے ہوئے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان عناصر کو واضح اور سخت پیغام دے کہ فسطائی طاقتوں کی انتشاری حرکتوں کی کسی صورت میں برداشت نہی کیاجائے گا۔
واضح رہے کہ حکومت اترپردیس نے بابری مسجد فیصلے کو لیکر کچھ حساس شھروں میں قیام امن کے لئے حکومت سے سنٹرل فورسز کی مانگ کی ہے تاکہ فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کرسکے ۔
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے