آیت الله سبحانی:

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقلید میں حضرت آیتالله جعفر سبحانی نے اج تیرھویں ماہ مبارک رمضان کو اپنی تفسیری گفتگو میں جو مدرسہ حجتیہ میں بیرونی طلاب کے مجمع میں برگزار ہو ا سورہ حشر کی اٹھویں ایت تفسیر کی ۔
اس مرجع تقلید نے ایت«والذین تبوء الدار والایمان من قبلهم ....» کی تفسیر کرتےہوئے انصار کےصفات کے تذکرے میں کہا : اس ایت کے مطابق انصاروہ لوگ ہیں جنہوں نے مھاجرین کو اپنایا ، فداکاری کی اور جب بنی نضیر کی زمینیں مھاجرین کو دے دی گئیں تو ھرگز کبیدہ خاطر نہی ہوئے ۔
حضرت آیت الله سبحانی نے کہا : اگر کوئی دوسرے کے مال کی بہ نسبت اپنی لالچ کو کنٹرول کرلے وہ کامیاب وکامران ہے ۔
انہوں نے مزید کہا: اس ایت کریمہ کے الفاظ اس بات کے بیان گر ہیں کہ انصار ( من الاول الی الاخر) ابتداء سے اخر تک متقی وپرھیز گار نہی تھے ۔
انہوں نے تاکید کی : جو لوگ اصحاب پیغمبر کے ابتداء سےانتھا تک متقی وصالح ہونے کا استدلال کرتے ہیں وہ سورہ حشر کی اٹھویں ایت سے ہی استدلال کرتے ہیں کہ در حقیقت یہ ایت اس استدلال کے لئے قابل استفادہ نہی ہے ۔
اس مرجع تقلید نے بیان کیا ھم تمام صحابہ پیغمبر کا احترام کرتےہیں مگر اس کا ھرگز مطلب یہ نہی کہ وہ تمام کے تمام متقی وپرھیزگار ہی ہوں ۔
انہوں نے اھل سنت کی بعض کتابوں جن میں سے صحیح بخاری بھی ہے کے مطالب کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہا : اگر اصحاب رسول اس ایت میں مذکور تمام اوصاف کے مالک ہوں تو ھم ان کے دست بوس ہیں مگر یہ جھوٹ ہے ، وہ ھم شیعوں کو صحابہ کےکفرکا اتھام لگاتے ہیں کہ خدا ہی ان سے انصاف کرے گا ۔
حضرت آیتالله سبحانی نے کہا : سائٹیں اور ڈیشیں اس سلسلے میں شیعوں پر تھمت لگاتیں ہیں وہ خدا سے خوف کریں اور اس طرح کی گفتگوسے پرھیز کریں کیوں کہ اس طرح کے مطالب خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہیں ۔
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے