آیتالله سبحانی:

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقلید میں سے حضرت آیتالله جعفر سبحانی نے اج ظھر کے وقت اپنی سلسلہ وار تفسیری نشست میں جو بیرونی طلاب کی موجودگی میں مدرسہ حجتیہ قم میں برگزار ہوا سورہ حشرنویں ودسویں ایت کی تفسیر کی ۔
اس مرجع تقلید نے ایت « والذین جاءوا من بعدهم یقولون ربنا....» کی تفسیر میں تابعین خصوصیتوں کو بیان فرمایا وکہا : اس ایت کے مطابق تابعین وہ لوگ ہیں جنھیں پیغمبر اسلام کا زمانہ نہی ملا مگر انہوں نے مھاجرین وانصار پیغمبرکو دیکھا ۔
انہوں نے ایک روایت کے ائینے میں کہا : اگر ھم امر ونہی ازمنکر کرنا چاھتے ہوتو ضروری ہے کہ اپنی اصللاح کریں تاکہ دوسرے ھماری اطاعت کرسکیں ، سورہ حشر کی نویں ایت میں ذکر ہے کہ تابعین نے سب سے پہلے اپنی اصلاح کی اور پھر انھوں نے دوسروں کی اصلاح کے لئے قدم اٹھایا ۔
حضرت آیت الله سبحانی نے حسد کے منفی اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : تمام افراد میں حسد کا مادہ پایا جاتا ہے مگر انسان کو کوشش کرنی چاھئے کہ اس بری صفت سے دوری کرسکے اور ھمیں خداوند متعال سے دعا کرنی چاھئے کہ اس کی رحمت و رافت کا تقاضا یہ ہے کہ ھماری دعاوں کو قبول کرے ۔
حضرت آیتالله سبحانی نے یہ کہتے ہوئے کہ منافق ھمیشہ اپنے مفاد کو پوراکرنے میں مشغول رہتاہے اور اس سلسلے میں ھر قسم کا قدم اٹھا سکتا ہے اس گروپ سے اسلام کے نقصانات کو یهود، نصاری، کفار و مشرکین سے بھی کہیں زیادہ جانا ۔
منافقین کے سلسلے میں نازل ہونے ایات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : قران کریم میں سورہ بقرہ میں گیارہ ایتیں منافقین کے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں اور یہ اس بات کا بیان گر ہے کہ منافقین سے خطرہ کفار و مشرکین کی بہ نسبت کہیں زیادہ رہا ہے ۔
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے