29 August 2010 - 17:01
خبر کا کوڈ: 1750
فونت
آیت الله سبحانی:
رسا نیوز ایجنسی - حضرت آیت الله سبحانی نے شیطان صفت و منافقوں پہ اعتماد نہ کرنا قران کریم کا سماجی پیغام بیان کرتے ہوئے کہا : شیطان صفت اور منافق انسان کو جب بھی فائدہ مطلوب ہوتا ہے اچھے روابط قائم کرتا اوراگر ایک لمحے کو بھی اس کے منافع کو خطرہ لاحق ہوتوھمیں جاننے سے بی انکار کربیٹھتا ہے ۔
حضرت آيت الله سبحاني

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ ککے مطابق ، مراجع تقلید میں سے حضرت آیت‌الله جعفر سبحانی نے اج ظھر کے وقت تفسیر قران کریم کی اپنی سلسلہ وار نشست میں جو بیرونی طلاب کی موجودگی میں مدرسہ حجتیہ قم منعقد ہوئی سورہ حشر کی سولھویں ، سترھویں اور اٹھارہویں ایت کی تفسیر کی ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سوره حشر کی سولھویں ایت « کمثل الشیطان اذ قال للانسان ....» منافقین کی مثال جنھوں نے مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا شیطان کے وعدے کے مانند کےہے جو انسانوں کی مدد کرنے کا وعدہ کرکے مکر جاتا ہے اور تاریخ میں اس طرح کے بہت سارے واقعات موجود ہیں ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے مزید کہا : مفسرین اس سورہ کی سولھویں ایت کی تفسیر میں مختلف احتمالات پیش کرتےہیں ان میں سے ایک یہ یہاں مراد انسان ہے اورانسان سے مراد ابوجھل اور ان کے مانند ہیں اور وہ بیان کرتے ہیں میرے لحاظ سے پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے کہ ایت شریفہ میں ارادہ کیا گیا ہو۔

اس مرجع تقلید نےقران کریم کے تفسیری سلسلہ میں بیان کرتے ہوئے کہ قران کریم انسانوں کی ضرورتوں کو پوراکرنے والا ہے مزید کہا: یہ اسمانی کتاب ، تمام ملت ، قوموں اور زمانے کے لئے جامع کتاب ہے ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے آیه شریفه «فکان عاقبتهما انهما فی النار...» کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ ایت اس بات کی بیانگر ہے کہ انسان خصوصا مسلمان شیطان صفت انسانوں پرھرگز اعتماد نہ کریں جو فقط اپنے منافع کی فکر میں رہتے ہیں ۔

حوزه علمیه قم میں درس خارج فقه کے استاد نے اس طرح کے افراد پر اعتماد عظیم نقصان کا سبب بنتا ہے کہا: ھمیں ھمیشہ افراد کی بہ نسبت متعھد رہنا چاھئے اوران پہ اعتماد کرنا چاھئے شیطان صفت ومنافق افراد فقط اپنے مفاد کو پورا کرتے ہیں اور ھرگز اپنے دئے ہوئے وعدے پر پابند نہی رہتے کہ تاریخ میں اس طرح افراد موجود ہیں ۔



تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬