
رسا نیوز ایجنسی کے خبرنگار کے رپورٹ کے مطابق ، حضرت آیت الله جعفر سبحانی مراجع تقلید عظام نے قم کے مدرسہ علمیہ حجتیہ میں روزہ دار کے درمیان سورہ حدید کی تفسیر اپنے تفسیری جلسہ میں کرتے ہوئے کہا : سوره حدید کی چوتھی آیت میں خدا وند عالم کے افعال بیان ہوئے ہیں اور اس آیت میں اولین مطلب زمین اور آسمان کا چھ دن میں تیار ہونا ہے ۔
انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا : زمین اور آسمان کا چھ دن میں پیدا ہونا دوسرے سورہ میں بھی مثلا سورہ قاف میں بھی ذکر ہوا ہے ۔
حوزه میں فقه اور اصول کے درس خارج کے استاد نے بیان کیا : روز شب کے مقابلہ میں ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب زمین کا کچہ حصہ خورشید کے سامنے ہوتا ہے ۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمین اور آسمان کے پیدا ہونے سے پہلے ، روز موجود نہی تھا کہ خداوند عالم فرماتا ہے کہ زمین اور آسمان چھ دن میں پیدا ہوا ہے ۔
انہوں نے اضافہ کیا : اس سوال کا جواب روشن ہے کہ " یوم " کا معنی صرف روز نہی ہے ، کبھی کبھی مقطع زمانی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔
ادارہ امام صادق (ع) کے ناظم نے بیان کیا : امیرمومنان (ع) فرماتے ہیں روزگار دو روز ہے کھی تمہارے خواھش کے مطابق تو کبھی تمہارے لئے ضرر میں ہے ۔ دوسرے حدیث میں فرماتے ہیں دنیا تین روز ہے ایک وہ روز جو گزر گیا پھر واپس نہی آنے والا ہے ، ایک وہ روز جو ابھی ہے جس میں ہم لوگ ہیں اس کی قدر کرو اور آئندہ جس کے سلسلہ میں خبر نہی ہے ۔ اس حدیث میں " یوم " روزگار اور مقطع زمانی کے معنی میں ہے ۔
حضرت آیت الله سبحانی نے اظهار کیا : سوره قاف کے ۳۸ ویں آیت میں بھی زمین اور آسمان کے پیدا ہونے کا ذکر ہوا ہے اور اس آیت کے تسلسل میں آیا ہے کہ ھم پر تھکاوٹ بھی عارض نہی ہوا ، یہ جملہ توریت کے جواب میں ہے جو کہ زمین اور آسمانوں کے پیدا ہونے کے سلسلہ میں بیان ہوا ہے ؛ خدا زمین اور آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور چھٹے روز تھک گیا اور ساتویں روز آرام کیا ۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : قران کی آیت اور حدیثیں اس طرح عمل نہی کرتی ہیں ، امیرمومنان(ع) اس سلسلہ میں فرماتے ہیں ہلکا اور وزنی ، چھوٹا اور بڑا سب خدا کے سامنے ایک جیسا ہے اسی طرح پہاڑ اور پہاڑی کا خلق کرنا ایک جیسا ہے ۔
یہ حوزه میں فقه اور اصول کے درس خارج کے استاد نے تاکید کیا : اگر اهل کتاب چاہتے ہیں توریت یا انجیل صحیح لکھا جائے تو ، ایسے حالت میں وہ قران سے ایسے کام کے لئے بھترین استفادہ کریں کیونکہ جو مطالب قران سے مطابقت رکھتی ہیں وہ صحیح ہیں نہیں تو دوسرے سب تحریف ہوئے ہیں ۔