حکومت سعودي عرب کے حکام کي جانب سے خبر علاقہ کے شيعوں پر مزيد نئي سختياں

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹ کے مطابق سعودي عرب کے حکام اس ملک کے شيعوں پر ايک مہينہ سے مسلسل شديد دباؤ بڑھا رہے ہيں شھر خبر ميں نماز جمعہ کے انعقاد ، شيعہ حاجي کے لئے ارکان حج کي تعليمي کلاس کے انعقاد کو بھي اس شھر ميں ممنوع قرار ديا گيا ہے ?
سعودي عرب کي پليس نے جمعہ کے روز اس شھر کے امام جمعہ علامه سيد محمد باقر الناصر کے گھر کي ناکہ بندي کرنے کے ساتھ ان کو نماز جمعہ پڑھانے کے فريضہ کو انجام دينے کي اجازت نہي دي اور ان کے گھر کا محاصرہ فوجداري پليس کے گاڑيوں کے ذريعہ ظھر کے بعد تک جاري رکھا ?
دوسري طرف جو خبر ملي ہے وہ بيان کرتي ہے کہ اس شھر کي پليس نے شيعوں کے لئے اعمال حج کے لئے تعليمي کلاس کے انعقاد پر بھي پابندي لگا دي اور جن لوگوں نے اس طرح کي کاسيں منعقد کي ہيں ان سے جواب طلب کرنے کي غرض سے ان کو حاضر ہونے کا حکم ديا گيا ہے ?
قابل ذکر ہے کہ سعودي عرب کي سلامتي فورس نے گذشہ کئي مہينوں سے شيعوں پر خاص کر شھر خبر کے شيعي باشندوں پر شدت کے ساتھ بے جا دباؤ اور سخت گيري کي ہے اور ابھي تک شيعوں کے چار مسجد ميں تالا لگا ديا گيا ہے اور وہ لوگ جو ان ميں نماز جماعت منعقد کرواتے تھے ان کو حراست ميں لے ليا گيا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے