18 November 2010 - 17:18
خبر کا کوڈ: 2097
فونت
آيت الله جوادي آملي نے جرمن کے وفد سے ملاقات ميں :
رسا نيوزايجنسي- حضرت آيت الله جوادي آملي نے جرمن کے وفد سے ملاقات ميں تاکيد کي : اگر ھم نے ابتداء ميں نہ کہا ہوتا کہ دين سياست سے الگ ہے اوراگراخر ميں نہ کہررہے ہوتے کہ ھميں کيا سياست کا دين سے کوئي جوڑ نہي تو نہ جنگ جهاني اول ہوتي اورنہ جنگ جهاني دوم ا نجام پاتي اور نہ ھم سبھي اس طرح قتل وغارت گري کے عيني شاھد ہوتے?
حضرت آيت الله جوادي آملي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے گذشتہ روز جرمن کے ايک وفد سے ملاقات ميں جو اس گراں قدر استاد سے ملاقات کي غرض سے شھر قم ايا تھا انہيں خوش امديد کہتے ہوئے تاکيد کي : ھميں اپ سے مل کر خوشي کہے اور عيد الاضحي جو يادگار حضرت ابراھيم خليل اللہ اورديگر ابراھيمي نبيوں موسي کليم، عيسي مسيح و پيغمبراسلام عليھم السلام کي يادگار ہے کي اپ سبھي کو مبارک پيش کرتے ہيں ?

انہوں نے مزيد کہا : ھم اپ کے سوالوں سے خوش ہيں کيوں کہ يہ سوالات اور مشورے اس بات کے بيان گرہيں کہ اپ الوھيت اور ديني معارف کے تشنہ ہيں خصوصا ابراھيمي اديان جو انسانوں کي نجات کي غرض سے ائے تھے ?

حوزہ علميہ قم کے اس معروف استاد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ حضرت مسيح ( ع) کا واحد معجزہ نہي تھا کہ مردے زندہ کرديا کرتے ہوئے تھے بلکہ اپ انساني معاشرے ميں روح پھونکا کرتے تھے ?

انہوں نے بيان کيا : اگر انسان اھل وفا اور اھل امانت نہ ہو بلکہ رشوت خور اور خيانت کار ہوتو ايسا انسان دين کي نگاہ ميں ايک حيوان سے بھي بدتر جيسا کہ خداوند متعال نے قران کريم ميں فرمايا ہے کہ : اولئک کالانعام بل هم اضل. وہ لوگ حيوانوں يا ان سے بھي بدتر ہيں ، کيوں کہ جب تربيت پاجاتے ہيں تو امانت داري کرتے ہيں اور خيانت نہي کرتے ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : حضرت عيسي مسيح (ع) نے فرمايا کہ ميں مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور اسي طرح قران کريم ميں ايا ہے کہ دين زندگي عطا کرتا اور مردوں کو حيات ديتا ہے ?

انہوں نے ديني مراکز کواس قتل وغارت گري کو روکنے پر موظف کرتے ہوئے کہا : بيروني ممالک کے چرچ اور ايران کے ديني مراکزموظف ہيں کہ معاشرے ميں پھيلتي ہوئي قتل وغارت گري کو روکيں ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے مزيد کہا : اگر ھم نے ابتداء ميں نہ کہا ہوتا کہ دين سياست سے الگ ہے اوراگراخر ميں نہ کہررہے ہوتے کہ ھميں کيا سياست کا دين سے کوئي جوڑ نہي تو نہ جنگ جهاني اول ہوتي اورنہ جنگ جهاني دوم ا نجام پاتي اور نہ ھم سبھي اس طرح قتل وغارت گري کے عيني شاھد ہوتے?

انہوں نے تاکيد کي : يہ بات واضح ہے کہ ستم کار حکام نہ اسمان سے نازل ہوئے ہيں اور نہ زمين سے ابلے ہيں وہ نوجوان تھے اور جوان ہوگئے انہوں نے ذمہ ادارياں سنھبالي ، وہ اسي سرزمين کے اولاد ہيں اگرانہوں نے اپني زندگي کے مختلف تعليمي مراحل ميں انبياء کے معارف کي تعليم بھي حاصل کي ہوتي تو جب اقتدار تل پہونچے تو ھرگزخونخوار نہ بنتے بلکہ کوشش کرتے کہ لوگوں کي جان کي حفاظت کريں ?

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬