آيت اللہ استادي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حوزہ علميہ قم ميں جامعہ مدرسين کے ممبر آيت الله رضا استادي نے اسلامي جمہوري ايران ، قم کے حرم مطهر حضرت معصومہ سلام اللہ عليہا ميں ماہ محرم کے شب ششم ميں اپني گفتگو کے سلسلہ کو جاري رکھتے ہوئے شفاعت کے سلسلہ ميں کہا : بعض لوگ شيعوں کو شفاعت کے مسئلہ پر معتقد ہونے کي بنا پر مشرک کہتے ہيں ، حالانکہ ان کو اس بات پر توجہ ديني چاہيئے کہ شفاعت انسان کي بخشش کا وسيلہ ہے ?
انہوں نے اس بيان کے ساتھ کہ وہ لوگ جو شيعوں کو ان کے شفاعت کے اعتقاد کي بنا پر مشرک جانتے ہيں وہ جہالت ميں زندگي بسر کر رہے ہيں ، شفاعت کو شيعوں کے لئے رحمت الھي کا ايک باب کے عنوان سے جانا اور وضاحت کي : جس طرح انسان توبہ کے ذريعہ خود کو نجات ديتا ہے اسي طرح شفاعت بھي انسان کے نجات کا ذريعہ ہے ?
حوزہ علميہ قم ميں جامعہ مدرسين کے ممبر نے اس بيان کے ساتھ کہ شفاعت ظالمان و نافرمان کے حال ميں شامل نہي ہوتا ہے بيان کيا : ھم لوگ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم اور ا?ئمہ اطہار عليہم السلام کي شفاعت کا اميد رکھتے ہيں اور روز قيامت و يوم جزا کے روز ان بزرگوں سے چاہتے ہيں کہ ھم لوگوں کو بھي اپنے دامن ميں جگہ ديں اور ھمارے ہاتھ کو پکڑيں ?
آيت الله استادي نے اس بيان کے ساتھ : بعض وھابي ميڈيہ ، کتاب اور سٹرلائيٹ ڈيش چائينل کے ذريعہ شيعوں کو ان کے اعتقد شفاعت پر طنز و گنہگار کہتے ہيں حالانکہ توجہ کرني چاہئے کہ وہ لوگ خود ہي ظلالت و گمراھي ميں گھرے ہوئے ہيں ?
انہوں نے خاص کر شفاعت کے سلسلہ کي ا?يات و روايات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے شرک کے مصداق کو بيان کرتے ہوئے کہا : وہ لوگ جو خدا وند عالم کے وحداينت و توحيد پر شک کرتے ہوں وہ مشرک ہيں ?
آيت الله استادي نے وضاحت کي : جو لوگ خدا کو قبول کرتے ہيں ليکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے شريک کے بھي قائل ہيں وہ مشرک ہيں اور پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم اور اولياء الھي ان ميں شامل نہي ہوتے ?
قم کے امام جمعہ موقت نے تاکيد کي : ھم لوگ قرا?ن و وحي پر اعتقاد رکھتے ہيں کہ خدا وند تعالي پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم اور ا?ئمہ اطہار عليہم السلام کے مقام و منزلت کو ممتاز رکھا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے