آيت الله نوري همداني :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله حسين نوري همداني مرجع تقليد نے ايران قم کے بينک کے سربراہوں و اھل کار سے ملاقات ميں اسلامي معاشرے ميں بينکاري مسئلہ کي اھميت کي طرف اشارہ کيا اور ربا کو ايک اقتصادي نقصان سے تعبير کرتے ہوئے کہا : معاشرے ميں ربا کے اثرات بہت بڑے اقتصادي نقصان کے ساتھ ہے ?
حضرت آيت الله نوري همداني نے اس تاکيد کے ساتھ کہ تاخير کے عوض ميں لي گئي رقم ربا اور يہ شرعي طور پہ حرام ہے وضاحت کي : بينک کے سربراہوں کے لئے ھماري ھميشہ کي شفارشات و تاکيدات ميں سے يہ ايک رہا ہے کہ بينک کے امور ميں مبتلائے ربا ہونے سے پرھيز کيا جائے ?
مرجع تقليد نے اپني گفتگو کو جاري رکھتے ہوئے کہا : ربا اور شرعي حرام کبھي بھي حلال نہي ہو سکتا ، يہ مسئلہ بہت ہي باريک ہے کہ بينک کے امور ميں مشغول اھل کار کو ان تمام مسائل ميں ھر طرف غور کرنا چاہيئے ?
حضرت آيت الله نوري همداني نے دين مبين اسلام ميں قرض دينے کي اھميت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کي : ديني و اسلامي تعليمات ميں قرض دينے والوں کا اجر و ثواب صدقہ دينے والوں سے بھي زيادہ ہے ?
انہوں نے قرض الحسنہ کو وسيع پيمانے پر رائج کرنے کو بہت ہي اھم جانا ہے اور کہا : دين اسلام ميں قرض کے وصول کے لئے بھي طريقہ و راستہ بتائے گئے ہيں ان ميں سے رہن بھي ہے اور توجہ کرني چاہيئے کہ قرض ميں سود اور فائيدہ اٹھايا جائے تو وہ حرام شرعي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے