20 December 2010 - 16:26
خبر کا کوڈ: 2210
فونت
آيت الله نوري همداني :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت الله نوري همداني نے بينک کے قرض کي ادائيگي ميں تاخير ہونے کي بنا پر بينک کي طرف سے ليا جا رہا رقم کو شرعي حرام اور ربا بتايا اور اس سے پرہيز کرنے کي تاکيد کي ?
آيت الله نوري همداني

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله حسين نوري همداني مرجع تقليد نے ايران قم کے بينک کے سربراہوں و اھل کار سے ملاقات ميں اسلامي معاشرے ميں بينکاري مسئلہ کي اھميت کي طرف اشارہ کيا اور ربا کو ايک اقتصادي نقصان سے تعبير کرتے ہوئے کہا : معاشرے ميں ربا کے اثرات بہت بڑے اقتصادي نقصان کے ساتھ ہے ?

حضرت آيت الله نوري همداني نے اس تاکيد کے ساتھ کہ تاخير کے عوض ميں لي گئي رقم ربا اور يہ شرعي طور پہ حرام ہے وضاحت کي : بينک کے سربراہوں کے لئے ھماري ھميشہ کي شفارشات و تاکيدات ميں سے يہ ايک رہا ہے کہ بينک کے امور ميں مبتلائے ربا ہونے سے پرھيز کيا جائے ?

مرجع تقليد نے اپني گفتگو کو جاري رکھتے ہوئے کہا : ربا اور شرعي حرام کبھي بھي حلال نہي ہو سکتا ، يہ مسئلہ بہت ہي باريک ہے کہ بينک کے امور ميں مشغول اھل کار کو ان تمام مسائل ميں ھر طرف غور کرنا چاہيئے ?

حضرت آيت الله نوري همداني نے دين مبين اسلام ميں قرض دينے کي اھميت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کي : ديني و اسلامي تعليمات ميں قرض دينے والوں کا اجر و ثواب صدقہ دينے والوں سے بھي زيادہ ہے ?

انہوں نے قرض الحسنہ کو وسيع پيمانے پر رائج کرنے کو بہت ہي اھم جانا ہے اور کہا : دين اسلام ميں قرض کے وصول کے لئے بھي طريقہ و راستہ بتائے گئے ہيں ان ميں سے رہن بھي ہے اور توجہ کرني چاہيئے کہ قرض ميں سود اور فائيدہ اٹھايا جائے تو وہ حرام شرعي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬