25 December 2010 - 17:47
خبر کا کوڈ: 2222
فونت
رسا نيوز ايجنسي ـ بغداد کے خطيب جمعہ نے عراق کے کچھ وزارتخانہ ميں مذھبي تعصب پائے جانے پر شدت کے ساتھ تنقيد کي اور پارليہ مينٹ کو اس قانون کي تحقيق کي دعوت دي ?
سيد محمد حيدري

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹ کے مطابق ، بغداد کے خطيب جمعہ حجت الاسلام سيد محمد حيدري نے گذشتہ روز اس شہر کے نماز جمعہ کے خطبہ ميں جو اس شھر کے مسجد خلاني ميں منعقد ہوا ، عراق ميں پيش کيا گيا کابينہ کو نا اميد کرنے والا بتايا اور کہا : گذشتہ ھفتہ سياسي پارٹي کے درميان کئي مہينہ کے طويل تنازعہ کے بعد نئي حکومت کے ذريعہ يہ کابينہ پيش کي گئي جو غير متوقع اور مايوس کرنے والي تھي جس نے تمام اميدوں پر پاني پھر گيا ?

انہوں نے وضاحت کي : تمام ماھرين کا يہ عقيدہ ہے کہ کابينہ ميں پيش کے گئے لوگ ، حکومت کي طرف سے جس چيز کي تاکيد کي جا رہي تھي کہ ان کے ندر تجدد و تبدل کي صلاحيت ہوگي مگر يہ افراد جن کو جو وزات دي گئي ہے اس حقيقت سے دور ہيں اور ان ميں اس وزارت کي مہارت بھي نہي پائي جاتي ہے اور کي تعليم بھي اس سے الگ ہے اور اس ميدان ميں ان کے پاس کوئي تجربہ بھي نہي ہے ?

حجت الاسلام حيدري نے با تجربہ لوگوں کو وزارت نہ دينے پر حيرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا : سياسي پارٹيوں کے درميان ممتاز اور اچھے لوگ موجود ہيں کہ وہ لوگ اس وزارت کو اختيار کر کے اس ميں اچھي تبديلياں لا سکتے ہيں ليکن جن کو وزارت ملا ہے وہ لوگ اس بنا پر کے سياسي پارٹي کے رھبروں کے قريبي ہيں اس لئے ان کو منتخب کيا گيا اور نوري مالکي سے ميرا مطالبہ ہے کہ ماھر و تجربہ کار اور مورد اعتبار لوگوں کو حفاظتي امور کا منصب ديا جائے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬