26 December 2010 - 16:56
خبر کا کوڈ: 2226
فونت
آيت الله مکارم شيرازي :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے اس بيان کے ساتھ کہ ايک زمانہ ميں علم مشرق سے مغرب کي طرف جاتا تھا اور اس کے بعد کسي بنا پر يہ قضيہ برعکس ہو گيا ، اظہار کيا : ھمارے طالب علم جان ليں کہ اسلامي علوم کي تاريخ اس وقت بہت ہي قوي و غني ہے اور ھم لوگوں کو چاہيئے کہ اسي علمي تحريک اور علمي کاوشوں کي طرف لوٹ جائيں ?
آيت الله مکارم شيرازي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله ناصر مکارم شيرازي مرجع تقليد نے ا?ج يونيور سيٹي کے سربراہوں سے ملاقات ميں خوشي کا اظہار کرتے ہوئے بيان کيا : جب بھي اس طرح کے جلسات ہوتے ہيں اس ميں شرکت کرتا ہوں اور اس سے لطف اندوز بھي ہوتا ہوں اس بنا پر کہ ھمارے مخاطبين علماء و اھل علم ہيں ?

انہوں نے پيدائش علم کي تاريخ بيان کرتے ہوئے کہا : ايک زمانہ تھا کہ علم مشرق سے مغرب کي طرف جاتا تھا اور اس کے بعد کسي بنا سے يہ مسئلہ برعکس ہو گيا ? اسلامي تمدن و ثقافت کي تاريخ پر بہت ساري کتابيں لکھي گئي ہيں اور زيادہ تر مغرب کے مصنفين نے لکھا ہے ?

مرجع تقليد نے وضاحت کي : جس زمانہ ميں مغرب زمين قرون وسطي کے تارکي ميں غرق تھا اس وقت مشرق زمين ميں علمي تحريکيں رواں دواں تھي ، حالانکہ کچھ مغربي متعصب مفکرين اس سے انکار کر رہے ہيں؛ ليکن يہ حقيقت ہے کہ جس کا انکار نہي کيا جا سکتا ؛ اس سلسلہ ميں بہت ساري نشانياں موجود ہيں مغرب کے بہت سارے اصطلاحات ميں اسلامي علوم کا ريشہ پايا جاتا ہے ?

حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے کہا : گذشتہ صدي ميں علم يورپ سے مشرق کي طرف ا?يا جس کا نتيجہ يہ ہوا کہ مغربي يونيورسيٹيوں کي بناديں ہو گئي اور بہت سارے پروگرام مغرب کے ثقافت سے متاثر ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬