06 September 2009 - 14:50
خبر کا کوڈ: 231
فونت
رهبر معظم انقلاب:
رسا نيوز ايجنسي- حضرت آيت الله سيد علي خامنه اي رهبر معظم انقلاب اسلامي، نے اج عصر کے وقت شعرا، اھل ھنر و ادب اور علمي شخصيات سے بڑي مہر آگيں فضا ميں ملاقات کي.
رھبر معظم


رسا نيوز ايجنسي کي دفتر رھبر معظم کي خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، فرزند رسول حضرت امام حسن عليہ السلام کي ولادت با سعادت کے موقع پر شعرا اور علمي شخصيات نے بڑي مہر آگيں فضا ميں قائد انقلاب اسلامي سے ملاقات کي.

اس موقع پر بعض نوخيز اور کچھ کہنہ مشق شعرا نے ديني، سماجي و اخلاقي موضوعات پر اپنے اشعار پيش کئے? اس تقريب سے خطاب ميں قائد انقلاب اسلامي نے انقلابي شعرا کي سطح کے قابل تعريف ارتقاء کي جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمايا: الفاظ، معاني، انداز، الفاظ کا انتخاب اور تخيل کي وسعت يہ سب کچھ ملک ميں شعري ذوق کے پروان چڑھنے کي علامتيں ہيں.

آپ نے انقلاب کے دوران کے اشعار کو بلنديوں کي سمت جاري بہاؤ قرار ديا اور کہنہ مشق شعرا کے اشعار کي سطح کے ارتقا اور نئي نسل کے شعرا کے پر کشش انداز کي جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمايا: انقلاب کا شعر اب تک کاميابي سے اپنا سفر طے کرتا رہا ہے اور انقلاب کے اہداف اور امنگوں کي جانب انقلابي اشعار کي پيشرفت جاري رہنا چاہئے.

قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے فرمايا کہ انقلاب کے اہداف در حقيقت درخشاں ستاروں کا ايک جھرمٹ ہے اس سے خيال کي پرواز کي سمت کا تعين ہوتا ہے.

آپ نے فرمايا: انقلابي اشعار کا، انصاف، اخلاقيات، حقيقي خود مختاري، ايراني و اسلامي تشخص کي بحالي جيسے انقلاب کے اعلي اہداف اور تعليمات سے ہم آہنگ ہونا ضروري ہے? ہم نے مقدس دفاع کے دوران مشاہدہ کيا کہ ملت ايران مطلوبہ اہداف کي سمت پرواز کرنے پر قادر ہے.

قائد انقلاب اسلامي نے انتخابات سے قبل اور بعد کے واقعات کو کسي فوجي مشق کي مانند کميوں اور خوبيوں کے آشکارا ہونے کا باعث اور مجموعي طور پر ايک عظيم نعمت قرار ديا اور فرمايا: علم و فن کے شعبے سے وابستہ انسان پر حقائق کے بيان کرنے کي اہم ذمہ داري ہوتي ہے، اسے حقيقت کے ادراک کے لئے سعي و کوشش کرنا چاہئے کيونکہ پر آشوب حالات ميں ميدان کي پوري اطلاع اور دوست و دشمن اور حملہ آور اور مزاحمت کار کي شناخت ہونا چاہئے.

قائد انقلاب اسلامي نے ميدان کي شناخت کے لئے بصيرت کو لازمي قرار ديا اور فرمايا: ارباب ادب و ثقاتف اسلامي انقلاب کي پيہم جاري تحريک کے اجزاء ہيں، جس چيز کو وہ حقيقت کے طور پر پہچانتے ہيں اسے پوري فصاحت و بلاغت سے انہيں بيان کرنا چاہئے کيونکہ دنيائے ثقافت ميں سياستدانوں کي روش سے کام نہيں کرنا چاہئے بلکہ حقائق کو بيان کرکے مشکلات کو حل کرنا چاہئے .

قائد انقلاب اسلامي نے نرم جنگ کو موجودہ دور کي ايک حقيقت قرار ديا اور اپنے گزشتہ بيس برسوں کے انتباہات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمايا: انقلاب، امام خميني اور اسلامي نظام کے اہداف اور امنگوں کے خلاف اس محاذ آرائي، تياريوں، بغض و حسد سے تلملاتے چہروں اور غيظ و غضب سے بھنچے ہوئے جبڑوں کو ديکھ کر اس نرم جنگ کے جاري رہنے کا يقين ہو جاتا ہے البتہ ممکن ہے کہ بعض لوگ اسے نہ ديکھ پاتے ہوں.

آپ نے فرمايا: اس نرم جنگ ميں ثقافتي اور علمي شعبے سے وابستہ افراد کي ذمہ داري يہ ہے کہ اپنے فن کو وسيع پيمانے پر مناسب شکل ميں پيش کريں تاکہ وہ اپنے اثرات مرتب کرے.

قائد انقلاب اسلامي نے شعرا کو اساتيد کي تخليقات کا مطالعہ کرنے، ان سے خود کو مانوس بنانے، تنقيد کي نشستوں ميں شرکت کرنے، شعري خاميوں کو دور کرنے اور کسي لمحہ بھي جمود کا شکار نہ ہونے کا مشورہ ديا.

اس ملاقات کے بعد حاضرين نے قائد انقلاب اسلامي کي امامت ميں نماز مغرب و عشا ادا اور روزہ افطار کيا.

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬