09 September 2009 - 15:26
خبر کا کوڈ: 246
فونت
پہلی قسط :
مولائے متقیان، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام جناب ابوطالب کے بیٹے اور خاندان بنی ھاشم کی معتبر فرد ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و الہ سلم کی زیر سایہ پروان چڑھے.
امیر المومنین علی علیہ السلام تقوی الھی ، دینداری اور خدا وند متعال کی عبادت میں یگانہ روزگارتھے



چند سال بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو خدائے تعالی کی طرف سے نبوت عطا ھوئی اور پھلی بار غار حرا میں اپ پر اسمانی وحی نازل ھوئی. اپ غار حرا سے شھر اور گھر کی طرف تشریف لے جا رھے تھے .حضرت علی علیہ السلام سے تمام واقعہ بیان کیا حضرت علی علیہ السلام پہلی وہ فرد تھےجو اپ پر ایمان لائے.

جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے نزدیکی رشتہ داروں (اقرباء) کواکٹھا کرکے دین مبین اسلام کی دعوت دی تو اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سب سے پہلے میری دعوت دین قبول کرے گا، وھی میرا خلیفہ، وصی جانشین اور وزیر ھوگا“جو شخص سب سے پہلے اپنی جگہ سے اٹھا اور باواز بلند اعلان حمایت کی وہ حضرت علی علیہ السلام ھی تھے. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے بھی ان کی حمایت کو قبول کیا اور ان کے سلسلے میں اپنے وعدے پورے کئے.1

اس لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام پہلے شخص ھیں جنھوں نے اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر ایمان لائے اور تنہا فردہیں جس نے ھر گز خدائے وحدہ لاشریک کے علاوہ کسی اور کی پرستش اور عبادت نھیں کی.

حضرت علی علیہ السلام ھمیشہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ ساتھ رھتے تھے. یہاں تک کہ جب انحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ھجرت فرمائی. اس رات بھی جبکہ کفار مکہ نے انحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے مکان کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور پختہ ارادہ کئے ھوئے تھے کہ رات کے اخری حصے میں انحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے گھر میں داخل ھو کر اپ کو بستر مبارک پر ھی قتل کر دیں گے تو حضرت علی علیہ السلام انحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے بستر مبارک پر سو گئے اور انحضرت گھر سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ھوگئے پھرمولائے کائنات بھی انحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی وصیت کے مطابق لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو واپس لوٹا کر اپنی والدہ ماجدہ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بیٹی (حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا) اور گھر کی دوسری عورتوں کو لے کر مدینہ روانہ ھوگئے.

مدینہ منورہ میں بھی اپ ھمیشہ نبی خداصلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ رھے اور انحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کبھی بھی علی کو اپنے سے جدا نھیں کیا .

انحضرت نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکی شادی اپ نے ان کے ساتھ کردی  اورجس روز اپنے اصحاب کے درمیان دوستی اور برادری کا معاھدہ کرا رہےتھے تو حضرت علی کو اپنا بھائی کہہ کر پکارا اور اپنا بھائی بنایا.

حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی تمام جنگوں میں شرکت کی اور ھر جنگ میں حاضر رھے، سوائے جنگ تبوک کے کیونکہ اس وقت انحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان کو مدینہ میں اپنی جگہ قائم مقام کے طور پر مقرر فرمایا تھا. لھذا حضرت علی علیہ السلام نہ تو کبھی کسی جنگ میں پیچھے رھے اور نہ ھی کبھی کسی دشمن سے شکست کھائی اور نہ ھی کسی کام میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی مخالفت کی. جیسا کہ انحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ علی ھر گز حق سے جدا نھیں ھے، اور حق علی سے جدا نھیں ھے.2


پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی رحلت کے وقت اپ کی عمرتیتیس سال کی تھی اگر چہ اپ تمام دینی فضائل میں سب سے بڑھ کر اور تمام اصحاب کے درمیان ممتاز تھے پھربھی اس بہانے سے کہ اپ جوان ھیں اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے زمانے میں چونکہ جنگوں میں سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور سب سے اگے ھوتے تھے ، ان جنگوں میں خونریزی کی وجہ سے لوگ اپ کے مخالف اور دشمن ھو گئے تھے، اپ کو خلافت سے الگ کر دیا گیا، اپ گھر میں گوشہ نشین ھو کر اشخاص کی تربیت کرنے میں مشغول ہوگئے.

 اپ پچیس سال تک یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی رحلت کے بعد تین خلفاء کی خلافت کے زمانے میں حکومت اور خلافت سے بالکل الگ تھلگ رھے مگر خلیفہ سوم کے قتل کے بعد عوام نے اپ کو خلیفہ منتخب کرکے اپ کے ھاتھ پر بیعت کی .

حضرت علی علیہ السلام اپنے زمانہ خلافت میں جو تقریباً چار سال نو مھینے جاری رھا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی سیرت وسنت پر عمل پیرا رھے. اپ نے اپنی خلافت کو ایک تحریک یا انقلاب میں تبدیل کردیا اور اس کے ساتھ اصلاحات بھی شروع کیں لیکن چونکہ یہ اصلاحات بعض مفاد پرست لوگوں کے نقصان میں تھیں اس لئے بعض اصحاب پیغمبر، جن میں اگے اگے حضرت عائشہ، طلحہ، زبیر، اور معاویہ تھے، خلیفہ سوم کے خون کو بھانہ بنا کر اپ کی مخالفت پر کمر بستہ ھوگئے اور اس طرح انھوں نے شورش، بغاوت اور نافرمانی شروع کردی.

حضرت علی علیہ السلام نے اس فتنے کو فرو کرنے کے لئے ام المومنین عائشہ ،طلحہ اورزبیر کے ساتھ بصرہ کے نزدیک جنگ کی جو”جنگ جمل“کے نام سے مشھورھے.

معاویہ کے ساتھ عراق اورشام کی سرحد پر جنگ لڑی جس کو ”جنگِ صفین“کہا جاتا ھے . یہ جنگ ڈیڑھ سال تک جاری رھی. اور اپ نےنھروان کے علاقے میں خوارج کے ساتھ ”جنگِ نھروان“بھی لڑی .

اپ کے زمانہ خلافت میں زیادہ وقت داخلی شورشوں اور فتنوں کو فرو کرنے میں گزراتھوڑے ھی عرصے بعدماہ رمضان کی انیس تاریخ کی صبح سن 40ھجری مسجد کوفہ میں نماز پڑھتے ھوئے شکشت خوردہ خوارج ابن ملجم کے ھاتھوں تلوارسے سر پرکاری زخم لگا اور اپ اکیس ماہ رمضان کی رات شھادت پاگئے.

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام ،تاریخی شھادت اوردوست و دشمن کے اعتراف و قول کے مطابق انسانی کمالات میں بالکل بے عیب تھے . اسی طرح فضائل اسلامی میں بھی اپ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی تربیت کا بھترین نمونہ تھے.

اپ کی شخصیت کے بارے میں جو بحثیں ھوئی ھیں اور ان کے متعلق سنّی اور شیعہ حضرات اور دنیا کے محققین نے جس قدر کتابیں لکھی ھیں، اتنی کسی اور شخصیت کے بارے میں نھیں لکھی گئی ھیں.


.....................................................................

1: ارشاد مفید ، ینابیع المودة
2: ینابیع المودة ، غایت المرام

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬