بحرين کے معروف عالم دين نے رسا سے گفتگو ميں :

شرعي عدالت استيناف بحرين کے سابق سربراہ ، حجت الاسلام شيخ محسن آل عصفورنے رسا نيوزايجنسي کي رپورٹر سے گفتگو ميں ملک کي موجودہ سياست کو بحرين کے عوامي قيام کي بنياد بتايا اورکہا : شيعہ سني ابادي کو برابر کرنے کي غرض سے گورمنٹ کي جانب سے سے بيگانہ افراد کو نيشنيلٹي دي جانے کي سياست نے معاشرے پر برا اثر چھوڑا اوربحرين کے حالات خراب ہونے کا سبب بنا ?
انہوں نے مزيد کہا : بيکاري کا خاتمہ ، ہاؤسنگ مشکلات کا حل اوربنيادي امکانات کي فراھمي عوام کا سب سے اھم مطالبہ ہے ، حکومت کا شيعوں کے خلاف قومي ومذھبي تعصب ، وزارت خانوں کي کرسيوں ميں کمي عوام کا غصہ بھڑکنے کا سبب بنا اوراب بحريني عوام موجودہ حکومت ميں تبديلي کي خواھاں ہے ?
حجت الاسلام آل عصفور نے کہا : بحرين کا سياسي نظام کچھ اس طرح بنايا گيا ہے کہ پارليمنٹ اکثريت کے بجائے اقليت کے ہا تھوں ميں ہے اور اقليت پارليمنٹ چلاتي ہے اگر عوامي انقلاب پيروز ہوگيا تو ملک ادارہ کرنے کے طريقہ ميں واضح تبديلي واقع ہوگي اور موجودہ تمام پروگرام ناکارہ ہوں گے ?
انہوں نے انقلابيوں کے قتل عام کي شديد مذمت کي اور کہا : بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں کا قتل ھرگز قابل قبول نہي ہے اور گورمنٹ ايسے لوگوں کو تہے تيغ کيا جنہوں نے مسالمت اميزطريقے سے جلوس نکالا اور کسي قسم کي خالف ورزي اور دنگے فساد کے مرتکب نہي ہوئے ?
شيخ محسن آل عصفور نے گورمنٹ کو عوامي مطالبات پورا کرنے کي دعوت ديتے ہوئے کہا : گورمنٹ عوام کي مانگ پورا کرے خصوصا فقيرومحروم طبقہ جو برسوں سے مصيبتوں سے دوچار ہے ان کے مطالبات پورا کرنے کي پوري پوري کوشش کرے اور مذاکرات وگفتگو کے ذريعہ ملک کو موجودہ بحران سے نجات دے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے