08 March 2011 - 17:59
خبر کا کوڈ: 2500
فونت
سيهات عربستان کے امام جمعہ :
رسا نيوزايجنسي – سيهات عربستان کے امام جمعہ نے ظالم حکام کے مقابل علاقے کے عوامي انقلاب کا سبب اسلامي عدالت خواھي بيان کيا ?
سيد حسن النمر

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، سيهات عربستان کے امام جمعہ ، حجت الاسلام سيد حسن النمر نے مسجد حمزه بن عبدالمطلب ميں شيعوں کے کثير مجمع ميں بعض افراد کي جانب سے قبيلہ اي اختلافات پھيلانے سے پر شديد تنقيد کرتے ہوئے کہا : بعض افراد عربي ممالک ميں مسلسل شيعت کے پھيلنے کي افواہ پھيلا کر بہت سارے عرب اھل وطن کے جزبات مجروح کررہے ہيں اوراھل تشيع کي نگاہ ميں اسے مذھبي فتنہ گري بيان کہا جاتا ہے ?

انہوں نے مزيد کہا : عربي معاشرے ميں مذھبي اختلافات پھيلانا اگ سے کھواڑ کرنے کے برابر ہے اس سلسلے ميں حکام کي ذمہ داري ہے کہ اس دھشت گردي پر لگام لگائيں اور فتنہ پرور افراد کا محاکمہ کريں ?

حجت الاسلام نمر نے واضح طور پر بيان کيا : افسوس يہ افراد تمام ان لوگوں کے جو ان کے ھم عقيدہ اور ھم مذھب نہي ہيں شديد دشمن ہيں اور حتي ان کے انسان ہونے کے بھي منکر ہيں مگر عوام اس سلسلے ميں بے حس نہ ہو اور عوام کو چاھئے کہ دين ومذھب اور ھم وطن ہونے کي بنياد پر ايک دوسرے کا ساتھ ديں ?

سيھات کے امام جمعہ نے عرب قوموں کے قيام کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : عرب قوميں اسلامي وانساني انصاف کي خواھاں ہيں اور انہوں نے اسي بنياد پر ظالم حکام کے مقابل قيام کيا ہے ?

انہوں نے انقلابيوں کو خائن بنانے پر شديد اعتراض کرتے ہوئے کہا : بعض حکام اور ان کے حامي افراد انقلابيوں کو خائن ، بيروني طاقتوں سے وابستہ اوران کے قيام کو قبيلہ اي قيام کا نام ديتے ہيں مگر يہ جان ليں کہ اسلام اور عالي مقاصد موقع نہي ديں گے کہ اقليت کے حقوق اکثيرت کے ہاتھوں پائمال ہوں ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬