قطيف عربستان کے امام جمعہ :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، قطيف عربستان کے امام جمعہ ، حجت الاسلام شيخ حسن صفار نے مسجد امام رضا(ع) ميں شيعوں کے جم غفير ميں علاقے کي موجودہ تبديليوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : حکام توقع نہ رکھيں کہ عوام جس طرح پہلے کے حکام کے ساتھ پيش اتي تھي ويسے ہي ان کے ساتھ بھي پيش ائے گي کيوں کہ دنيا ميں تبديلياں ارہي ہيں اور عوام جاگ چکي ہے حکام کي بھي ذمہ داري کہ ہے ان تبديليوں کے ساتھ ساتھ ہوجائيں ?
انہوں نے مزيد کہا : ان تبديليوں کو نہ ماننا اور عوام وحکمرانوں کے درميان رابطہ کا کمزور ہونا عربي اسلامي ممالک ميں عوامي انقلاب کاسبب بنا ہے ?
شيخ حسن صفار نے واضح طور پر کہا : مغربي معاشرے کے حالات بھي موجودہ عربي معاشرے کے حالات کے مانند تھے مگر عوام اور گورمنٹ کے روابط بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ يہ حالات بھي بہتر ہوگئے اور ان دوران کو انہوں نے دوران اجتماعي کا نام ديا اوراسي زمانے سے ملک کي مشروعيت کو عوام سے ليتے ہيں اور عوام اپني گورمنٹ کاخود انتخاب کرتي ہے ?
قطيف کے امام جمعہ نے عرب حکام کو مغربي نظام سے عبرت حاصل کرنے کي سفارش کرتے ہوئے کہا : عرب حکام بھي مغربي دنيا کے مانند جہاں عوام اور گورمنٹ کے کا اپسي رابطہ اچھا رابطہ ہے اور انہيں مرضي کے مطابق منتخب کئے جاتے ہيں کے طريقے پر چليں اور اس طرح عوامي انقلابات کا خاتمہ ديں ?
انہوں نے امت اسلاميہ کے مستبقل کو روشن بتاتے ہوئے کہا : مغربي دنيا کي عوام نے بھي سختياں بہت ديکھيں اور اس طرح کے حالات سے وہ بھي دوچار ہوئے اور ايسا نہي تھا کہ اس زمانے کے غربي حکام بھي اساني کے ساتھ طرز حکومت بدلنے پر راضي تھے اج امت اسلاميہ بھي تمام زحمتون اور سختيوں کے باوجود موجودہ سياسي نظام کو بدل کررہے گي اور اميد ہے ان سختيوں کے بعد ايک روشن مستقبل سے روبرو ہوگي ?
حجت الاسلام صفار نے اسلامي ممالک کے داخلي مسائل ميں مغربي ممالک کي دخالت کي بہ نسبت خبر دار کرتے ہوئے کہا : ليبيا کا ڈيکٹيٹر جو خود کوافريقا اور دنيا اسلام کا بادشاہ کہتا ہے اورليبي کي عوام کو اپني بغير بے حيثيت سمجھتا تھا اج عوامي قيام سے روبرو ہے اور ان کے قتل عام کے درپہ ہے اور اس طرح ملک کے داخلي مسائل ميں مغربي طاقتوں کي دخالت کا زمينہ فراھم کررہا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے