حميد جلالي / ترجمہ : سيد اشھد حسين نقوي

عربي ممالک اور اتري افريقا کے حالات اج کل دنيا کي ميڈيا ، نيوز ايجنسيوں اور پيپرس کا اھم خبري عنوان ہيں ، ايسے ممالک جن کے ڈيکٹيٹرس کو برسوں سے امريکا اور مغربي دنيا کي حمايت حاصل تھي جو اپني قوم کے لئے اقتصادي مشکلات پيدا کرنے اور اسلام سے مقابلے ميں اپني قوموں کے نزديک مشترک ہيں ?
عوام کا غصہ سے ابل پڑنا اور ان ممالک ميں موجود چند سالہ دبي ہوئے نفرتوں کا اظھاراگرچہ اسے غير قابل پيشن گوئي نہي کہا جاسکتا مگر اس حد تک کي اميد کم تھي ، واضح رہے کہ اس تحرير کا مقصد عوامي انقلاب کي تحليل نہي ہے کيوں کہ ايسي تحليل کيلئے وقت درکار ہے بلکہ مقصد موجودہ صورت حال پہ ايک طائرنہ نظر ڈالنا ہے کہ ديکٹيٹرس کي حمايت کے سلسلے ميں امريکا اور مغربي دنيا کا کردارکيسا رہا ?
مصر مختلف لحاظ سے عربي اور افريقن ممالک سے قابل قياس نہي ہے اس ملک ميں ھر قسم کي تبديلي سے ديگر اسلامي اور عربي ممالک متاثر ہوں گے مصر مستحکم سوابق اورجڑيلے ثقافتي مراکز کا مالک رہا ہے اس ملک نے طول تاريخ ميں عربي اوراسلامي ثقافت وادب کي بنياديں رکھي ہيں اور اخري چند دھے ميں بہت سارے عربي معاشرے ميں تاثير گزار فکري وثقافتي تحريکيں مصر سے نشات پائي ہيں ?
يہ خصوصيتيں جب جغرفيائي خصوصيتوں کے ھمراہ قرار دے دي جائيں جيسے مصرکا افريقا کے خطے ميں واقع ہونا ، سوئز جيسے اھم راستے کا مالک ہونا اور مقبوضہ فلسطين سے ملا ہونا مصر کي اھميت مزيد اجاگر ہوجاتي ہے يہي وہ خصوصيتيں ہيں جس نے مغرب دنيا کو ان ممالک ميں منظم پروگرام بنانے پر مجبور کيا اور بات يہاں تک پہونچي کہ جمال عبدالناصر کے مصر کو انور سادات جيسے خائن نے صلح نامہ پہ دستخط کرکے صہيونيت کے حوالے کرديا ، خالد اسلامبولي جيسے باغيور بعض مسلمان جوانوں کے ہاتھوں اس کي موت کے بعد حکومت مصر حسني مبارک جيسے مہرے کے ہاتھ لگي ?
30 سال سے بھي زيادہ مصر کي ڈيکٹيٹر شپ ، جمھوريت کا غلاف پہنے مبارک نامي ايک مٹي کے بنے پتلے کے پاس رہي جس نے امريکا ، مغربي دنيا اور غاصب اسرائيل کي خوب خدمت کي ، بہت سارے موقع پر پانچويں ستون اوراسلامي ممالک ميں اسرائيل کے جاسوس کے عنوان سے موجود رہا، اسي خيانت ، وابستگي اور اس حکومت کو موروثي کرنے کي کوشش سے عوام کا غصہ امنڈ پڑا اورتيونس کا عوامي انقلاب چنگاري بن کر سامنے ايا اور پھرمصر کے بارودي انبار ميں زبردست دھماکہ ہوا اورديکھتے ديکھتے ڈيکٹيٹر حسني مبارک کي سرنگوني کا مطالبہ ليکر عوامي قيام سامنے اگيا ?
مگر يہاں پر ايک غور طلب اورقابل توجہ بات امريکا اور مغربي دنيا کا مصر کے سلسلے سے برتاو ہے ، امريکا نے مصر کے عوامي انقلاب کے اغاز ميں مبارک سے اپني حمايت کا اعلان کيا مگر حالات اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اورعوامي انقلاب کي شدت ديکھتے ہي امريکا نے کئي مرتبہ اپنے موقف کے پہلو بدلے يہاں تک کہ مصر کے صدر جمھوريہ حسني مبارک نے اپني تقرير ميں حکومت مصر ميں تبديلي کا وعدہ کيا ?
اگر چہ اس موقف کي تبديلي ميں بھي امريکا کي منفعت طلب سياست پنہاں تھي مگر ڈيکٹيٹر سے حمايت کے سلسلے ميں تيزي سے بدلتے اس موقف کے راز کو کسي دوسرے نکتہ ميں ڈھونڈھنا چاھئے اور وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہي کہ مقبوضہ فلسطين سے مصر کے بارڈر کا ملا ہونا سبب بنا کہ مصر ميں ھر طرح کي تبديلي اور بے امني غاصب صھيونيت کے لئے سب سے بڑے خطرے کا سبب ہے خصوصا مصر کے زميني بارڈر غزہ پٹي حماس کي حاکميت کي سرزمين سے ملتے ہيں لھذا ھر طرح کي مصر کي سياست ميں تبديلي مقبوضہ فلسطين ميں حماس کے طاقتور ہونے کا سبب اور اسرائيل کے لئے مصيبت کا دن ہوگا ?
اسي بنياد پر امريکا اور اسرائيل حاضر ہيں اس فريبي اور خود ساختہ ملک اسرائيل کي سلامتي کے لئے ڈيکٹيٹر کي پشت تيزي سے خالي کرديں اور تيزي سے قدرت منتقل کرنے کے لئے غرب واسرائيل پرست کسي فرد کي تلاش کريں تاکہ اسرائيل کے حق ميں مصر ميں موجودہ بے امني پہ روک لگا سکيں ?
حسني مبارک کواسي سياست کا فديہ قرار ديا گيا جو تين دھے سے بھي زيادہ اس کوشش ميں تھا مغرب دنيا کي ھمراھي ميں حتي مصر کي عوام ، عالم اسلام اوردنيا کے جمھوريت پسند افراد کي پشت پناہي چھوڑ کراپني قدرت کي حفاظت کرسکے مگر مغربي دنيا نے ثابت کرديکھايا کہ اسرائيل اوراپنے منافع کي حفاظت ميں اپنے ھرنزديک ڈيکٹيٹر کي حمايت سے ہاتھ اٹھا کراساني کے ساتھ اسے کوڑے دان کے حوالے کرسکتے ہيں ?
حسني مبارک اس وقت کوشش ميں ہے کہ انقلابيوں کے درميان اپنے ماننے والے افراد کو شامل کرکے ، اختلاف پھيلا کر ، اپني مدت صدارت تک مسند قدرت پر بيٹھا رہے اور اگست ميں قانوني طريقے سے حکومت غرب پرست کسي دوسرے مھرے کے حوالے کردے ?
يہ طريقہ ضرور ديگر پڑوسي ممالک جن کي صورت حال بھي اسي طرح کي ہے مورد حمايت قرار پائے گا کيوں کہ عوام کے دباو پيش نظر مصر کے طرز حکومت ميں ھر طرح کي تبديلي يمن، الجزاير، مغرب خصوصا عربستان اورعلاقے کي ديگر حکومتوں کي بنيادوں کو سست کرکے رکھ دے گي ?
رھبر معظم انقلاب اسلامي حضرت ايت اللہ خامنہ اي نے نماز جمعہ کے خطبہ ميں مصر کي عوام کو اس نکتے سے خبر دار کيا تھا کہ وہ امريکا اور مغربي دنيا کے سياسي کھيل پرھرگز اعتماد نہ کريں کيوں کہ وہ کچھ دنوں پہلے تک اسي ظالم کي حمايت کررہے تھے اور اج جب اس سے ناميد ہوچکے ہيں تو عوام کے حق و حقوق کي بات کرتے ہيں ، سچ يہ ہے کہ يہ سامراجي طاقتيں اس پردے کے ذريعہ مھرے کو جا بجا کرنے کا ارادہ رکھتي ہيں اوران کا ارادہ ہے کہ چھرہ بدل کر خود سے وابستہ ايک دوسري فرد تم پر مسلط کرديں اور يہ قوموں کے افکار کي اھانت ہے جسے اپ ھرگز برداشت نہ کريں اورمصر ميں ايک مکمل جمھوريت کا نظام قائم کريں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے