پاکستان ميں ايک بار پھر:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، توہين رسالت کے قانون ميں ترميم کے خلاف گزشتہ سال دسمبر ميں شروع کي گئي تحريک ناموس رسالت مذہبي جماعتوں سياسي اتحاد کي ايک اہم کڑي تھي?
رپورٹ کے مطابق ، اس اتحادي تحريک ميں ديوبندي، بريلوي، شيعہ اور اہل ِحديث سميت مختلف مکاتب فکر کي 8 جماعتيں شامل ہيں?
يہ وہي تحريک ہے جس نے حکومت کو توہين رسالت کے قانون ميں ترميم کرنے کے معاملے ميں گھٹنے ٹيکنے پر مجبور کرد يا?
انساني حقوق کي کارکن اور سپريم کورٹ بار ايسوسي ايشن کي صدر عاصمہ جہانگيرنے اس سلسلے ميں کہا : اسٹيبلشمنٹ کي چيرہ دستياں اور موجودہ حکومت کي کمزوري مذہبي جماعتوں کو سياسي عزائم کي تکميل ميں مدد دے رہي ہے?
تجزيہ نگاروں کا خيال ہے کہ پاکستاني معاشرے ميں بڑھتے ہوئے امريکہ مخالف جذبات اور توہين رسالت کے قانون ميں تبديلي جيسے امور مذہبي جماعتوں کے دوبارہ اتحاد کا سبب بن رہے ہيں?
سياسي تجزيہ نگاروں نے مزيد کہا : اگر ناگزير وجوہات کے سبب ملک ميں وسط مدتي انتخابات ہوئے يا موجودہ صورتحال چلتي رہي تو يقيناً يہ جماعتيں گزشتہ انتخابات کي نسبت بہتر کارکردگي دکھا سکتي ہيں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے