آيت الله مظاهري :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله حسين مظاهري اپنے اخلاق کے درس ميں بيان کيا : جو شخص گناہ کرتا ہے خود پر اور سماج پر ظلم کرتا ہے اور خدا وند عالم کي عنايت ظالم کے لئے نہي ہے ? لھذا گنھگار انسان جتنا بھي ايک ا?رام و اطمينان کي زندگي گزارنے کي کوشش کرتا ہے کامياب نہي ہوتا اور اس کي ا?خرت جہنم ہے کيونکہ اس کي کوشش بغير کسي ريشہ کے ہے ?
انسان کي نابودي کے کئي عوامل ہيں جو انسان کو نابودي کي طرف لے جاتي ہے اور اس کي دنيا اور ا?خرت کو تباہ کر ديتي ہے ? پہلا عامل ، نفس امارہ ہے کہ جس کو انسان کے حيواني جنبہ سے تعبير کي جاتي ہے ?
دوسرا عامل گناہ ہے ? قرا?ن کريم کے مطابق گناہ انسان کے دنيا اور ا?خرت کو نابود کر ديتا ہے ؛ اس کے دنيوي زندگي کو دکھ، غم، مشترکہ خوف ، پريشاني اور تشويش ميں مبتلي کرتا ہے اور ا?خرت ميں اس کو جہنم ميں جانا پڑتا ہے ?
خدا وند عالم جھنم نہي بناتا ہے بلکہ انسان کا اعمال خود اس کے لئے جہنم بناتا ہے ، لھذا جب اھل جہنم ، جہنم ميں جاتے ہيں تو خدا وند يا ملائکہ کہتا ہے : «ذلِکَ بِما قَدَّمَتْ أَيْديکُمْ» يعني سانپ ، بچھو ، ا?گ کي بيري زنجير جو کہ جہنم ميں ہے خود انسان کا مہيہ کيا ہوا ہے جو اس نے پہلے سے اپنے لئے بھيجا ہے ? لھذا گناہ اگر چہ چھوٹا ہي کيوں نہ ہو مگر اس بنا پر کہ انسان کي زندگي کو تباہ و برباد کرتا ہے اور اس کو جہنم ميں ڈال ديتا ہے بہت بڑا ہے اس سے پرھيز اور دوري کرني چاہيئے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے