25 March 2011 - 15:24
خبر کا کوڈ: 2570
فونت
علامہ سيدعابدحسين حسيني:
رسا نيوزايجنسي – دين و ملک کي امنيت کے دشمن طالبان نے ايک بار پھر آٹھ شيعہ مسافرين کو زخمي کرکے سرکاري معاہدہ توڑديا ?

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، پاراچنار ميں تحريک حسيني کے سربراہ علامہ سيد عابد حسين الحسيني نے 20 مارچ کو ناصبي دہشتگردوں کے توسط پاراچنار کي ايک فلائنگ کوچ پرہوئے حملے کو ليکر جو 8 بے گناہ شيعہ کے زخمي ہونے سبب بنا ميڈيا کے سامنے احتجاج کيا ?

انہوں نے پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کيا : انتظاميہ معاہدے سے متعلق اپنا موقف واضح کرے اور جو کچھ معاہدے ميں ذکر ہوا ہے اسے تحريري صورت ميں سامنے لايا جائے?

انھوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ معاہدے کے بعد 16 بار مخالف فريق نے معاہدے کے خلاف ورزي کي ہے اور حکومت ابھي تک خاموش تماشائي بني بيٹھي ہے کہا : ان سب خلاف ورزيوں کي ذمہ دار حکومت ہے اور حکومت کو چاہئے کہ زخميوں اور شہداء کے وارثين کو نقصانات کي تلافي کرے ?

سيد عابد حسين الحسيني نے ملت جعفريہ کي خاموشي کے اسباب کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : ھماري خاموشي صرف اسلئے ہے کہ ہماري طرف سے معاہدہ شکني نہ ہو ورنہ ہم اينٹ کا جواب پتھر سے دينے کي صلاحيت رکھتے ہيں ?

انھوں نے مزيد کہا: خدا کے فضل وکرم سے ہماري قوم نے 4 سال تک استقامت ومزاحمت کرکے استقامت کي مثال قائم کي ہے اور امام زمانہ (عج) کے کرم سے مزيد استقامت کرنے کي صلاحيت رکھتے ہيں?

جناب حسيني نے 50،50 رکني جرگے کو خطاب کرتے ہوئے کہا : وہ اگر “مَري معاہدے” کے مطابق فيصلے کر سکتا ہيں تو کريں اورقوم وملت کو دھوکہ نہ ديں ?

انھوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ ہم خود بھي اپنے فيصلے کي صلاحيت رکھتے ہيں اور اس سلسلے ميں کسي کے محتاج نہيں ہيں کہا : ھماري قوم مدتوں سے ان دھشتگردوں کے ہاتھوں شکار ہوتي رہي ہے اور حکومت تماشائي بني رہے جواب قابل تحمل نہي ہے ?

دوسري جانب آئي ايس او کے مرکزي نائب صدرحسن اور راولپنڈي ڈويژن کے صدر تقي حيدر نے بھي اپنے مشترکہ بيان ميں کہا : استکباري قوتيں مسلمانوں کے مابين نفاق کا بيج بو کر اپنے مقاصد کي تکميل کرنا چاھتي ہيں مگروہ اس بار بھي ناکامي کا منھ ديکھيں گي ?

انھوں نے پاراچنار سے پشاور جانے والي مسافر بس ميں ہونے والے دھماکے اور اس ميں بارہ افراد کي شہادت پر شديد غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے امن معاہدے کي خلاف ورزي قرار ديتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کيا : حکومت پاکستان کو امريکا کي چھاوني نہ بننے دے اور في الفور وحشت و بربريت کا سلسلہ ختم کرائے?

واضح رہے کہ اس سے پہلے ہونے والے حملے ميں بھي 12 شيعہ شہيد ہوئے تھے اوراس سے قبل گودراور مينگک کے علاقے سے بھي 4 بچوں کو اغوا‏ کيا گيا تھا جن کے زندہ يا مردہ ہونے کے بارے ميں معلومات نہيں مل سکي ہے?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬