04 April 2011 - 23:07
خبر کا کوڈ: 2604
فونت
آيت الله جوادي آملي :
رسا نيوزايجنسي – حوزہ علميہ قم ميں درس خارج کے استاد نے کہا : اج عيسائيت کي دنيا ميں امريکن عيسائيت نے حقيقي عيسائيت کي جگہ لے لي ہے اوراس دين کے ائين ميں جہاد گوشہ نشين ہوچکا ہے ?
حضرت آيت الله جوادي آملي
 
رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، مفسر قران کريم ، معلم اخلاق ، اسوہ تقوي وعمل ، حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے اج درس تفسر قران ميں جو سيکڑوں طلاب وافاضل کي موجودگي ميں مسجد اعظم قم ميں منعقد ہوا کہا : جہاد کسي امت سے مخصوص نہي بلکہ عبادت وقرباني جيسي ديگر الھي سنتوں کي طرح تمام گذشتہ قوموں کے ائين ميں موجود تھا ?

انہوں نے بيان کيا : اج امريکن اسلام مشرق وسطي کے بعض علاقے ميں حاکم ہے اور حقيقي اسلام کي جگہ لے چکا ہے ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج کے اس استاد نے بيان کيا : اج چرچ جہاد اور دفاعي جنگ کي ممانعت کرتا ہے جب کہ حضرت عيسي (ع) کي تعليمات ميں واضح طور پر جہاد کا حکم ديا گيا ہے ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے اظھار کيا : مسلح دفاع اسلام کے مورد قبول رہا ہے اور جہاد مذاھب کے عالمي قوانين ميں سے ہے ?

انہوں نے کہا : جہاد اور دفاع کي حقيقت يہ ہےکہ اگر جہاد نہ ہو تو ثقافتي مراکز متاثر ہوں گے اس لحاظ سے جہاد اسلام سے مخصوص نہي ہے بلکہ ديگر اديان کو بھي شامل ہے ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے اپنے درس ميں علم کي پيداوار کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : مناسب سوالات وجوابات علمي گٹھ جوڑ ہے جس سے علم کي پيداوار ہوتي ہے ?

انہوں نے کہا : جس معاشرے ميں باريکي کے ساتھ علمي سوالات اٹھائے جاتے ہيں علم وجود ميں اتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬