09 April 2011 - 23:12
خبر کا کوڈ: 2631
فونت
اثر:هادي الياسي/ ترجمہ : سيد اشھد حسين نقوي
اغازبعثت پيغمبراسلام (صلي الله عليه وآله) ميں منافقين مدينہ نے اسلام کو نقصان پہونچانے ميں اپني پوري توانائي صرف کردي ، قران کريم نے مختلف سورے و ايات ميں منافقين کے تمام حيلے اور سازشوں کا تذکرہ کيا ہے ?
محمد مصطفي (ص)

منافقين مدينہ کے ہاتھوں مسجد ضرار کي تعمير صدر اسلام ميں منافقين کي فعالتيوں کے سياہ ورق ميں سے ہيں ، قران کريم نے سورہ توبہ يوں بيان کيا کہ تحريک مرسل اعظم (صلي الله عليه وآله) پر قبضہ پانے کے لئے منافقين نے مسجد کي تعمير کي جسے قران کريم نے ضرار کا نام ديا : «وَ الَّذينَ اتَّخَذُوا مَسْجِداً ضِراراً وَ کُفْراً وَ تَفْريقاً بَيْنَ الْمُؤْمِنينَ وَ إِرْصاداً لِمَنْ حارَبَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنا إِلاَّ الْحُسْنى‏ وَ اللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَکاذِبُون‏؛ (ان ميں سے بعض ديگرگروہ ميں ) وہ لوگ ہيں جنھوں نے (مسلمانوں کو) نقصان پہونچانے اور کفار ومشرکين کو فائدہ پہونچانے کي غرض سے مسجد کي تعمير کي ، مومنين کے درميان تفرقہ اندازي اور خدا وپيغمبر خدا سے لڑنے والوں کے لئے پناہگاہ کي تعميرکي ، ان لوگوں نے قسم کھائي کہ اس سے نيکي اور خدمت کے سوا ھمارا کوئي ارادہ نہي مگر خداوند متعال گواہ ہے کہ يہ جھوٹے ہيں ? »?[8]

اس ايت کے شان نزول کے سلسلے ميں مفسرين بيان کرتے ہيں : منافقين کا ايک گروہ پيغمبر اسلام ( صلي الله عليه وآله) کے پاس ايا اور اس نے اپ سے درخواست کي کہ ھميں قبيله بني سالم [مسجد قبا کے نزديک] ايک مسجد بنانے کي اجازت ديں تاکہ ناتواں اور بيمار افراد اس ميں نماز ادا کرسکيں ، برسات کي راتوں ميں جولوگ اپکي مسجد ميں انے تونائي نہي رکھتے اس ميں نماز پڑھ سکيں ، يہ درخواست اس وقت کي گئي جب پيغمبر اسلام ( صلي الله عليه وآله) جنگ تبوک کے لئے روانہ ہورہے تھے ، پيغمبراسلام ( صلي الله عليه وآله) سے اجازت پانے کے بعد خود اپ درخواست کي کہ بنفس نفيس اس مسجد نماز ادا کريں تو پيغمبر اسلام ( صلي الله عليه وآله) نے فرمايا : ميں قصد سفر رکھتا ہوں مگر سفر سے واپسي پر اگر خدا نے چاھا تو وہاں ا?ونگا ? تبوک سے واپسي پر ابھي پيغمبر اسلام ( صلي الله عليه وآله) مدينے نہي پہونچے تھے اپ مسجد سے انے اور نماز ادا کرنے کي درخواست کي گئي ، اسي اثنا ميں جبريل امين ايت مسجد ضرار ليکر نازل ہوئے اوراپ کو اسلام کے خلاف ايک خطرناک سازش سے اگاہ کيا، پيغمبر اسلام ( صلي الله عليه وآله) نے بھي اس مسجد کے جلانے کا حکم ديا ، کچھ ہي لمحوں ميں مسجد زمين بوس ہوگئ اوروہ جگہ شھر کے کوڑے دان ميں تبديل کردي گئي ? [9]

دين کے ھم رنگ سازش :

شايد اپ کے ذھن ميں يہ سوال اٹھے کہ جو لوگ مسجد پيغمبر( صلي الله عليه وآله) تک انے کي طاقت نہي رکھتے تھے ايسے لوگوں کے لئے مسجد کي تعمير ميں کسي قسم برائي نہي ديکھائي ديتي ؟ مگر سازش سے باخبر ہونے کے بعد پيغمبر اسلام ( صلي الله عليه وآله) کے حکم کي حکمت سے بخوبي واقف ہوسکتے ہيں ?

زمان جاھليت ميں «ابوعامر» نامي ادمي نصراني ائين پہ ايمان لايا اور راھبوں کا راستہ اپنايا ، خود کي نگاہ ميں متقي وپرھيزگار ہوگيا اور اسي بنياد پر قبيله خزرج ميں با اثر تھا ، پيغمبر اسلام (صلي الله عليه وآله) کي بعثت کے بعد مدينے کے مسلمان پيغمبراسلام (صلي الله عليه وآله) کے ارد گرد اکٹھا ہوگئے ، اھستہ اھستہ اسلام کو عروج ملا خصوصا مشرکين سے جنگ بدر کے بعد ابوعامر نے اپنے اطراف کو خالي پايا ، وہ جو ايک دن پيغمبر کي بشارت دينے والوں ميں سے تھا اورانتظار منتظر کو مبارک سمجھتا تھا ، پيغمبراسلام (صلي الله عليه وآله) کي بعثت کے بعد جب اس نے اپني محبوبيت کم ہوتے ديکھا تو اپ سے مقابلے ميں کھڑا ہوگيا اور مدينے سے کفار مکہ کے پاس پہونچ گيا اوران سے پيغمبر اسلام (صلي الله عليه وآله) کے خلاف جنگ کرنے کي مدد مانگي ، مسلمانوں کے خلاف جنگ احد کي کمان سنبھالي ، اسي کے مشورے پر دو لشکروں کے بيچ خندق کھودي گئي جس ميں پيغمبر اسلام (صلي الله عليه وآله) بھي جنگ کے دوران گر گئے اور اپ کي پيشاني زخمي ہوگئي ، جنگ احد کے بعد اسلام کا شہرہ ديکھتے ہي ابوعامر مدينہ سے بھاگ نکلا اور بادشاہ روم کے پناہ ميں پہونچ گيا تاکہ اسے اسلام کے خلاف ورغلا سکے ، اسي بنياد پر پيغمبر اسلام (صلي الله عليه وآله) نے اسے فاسق کہا؛ ابوعامر نے مدينےکے منافقين کے نام خط لکھا کہ وہ لشکر روم کے ساتھ مدينے ائے گا لھذا ايک ايسي جگہ کي تعمير کريں جو ان کي فعاليتوں کا مرکز ہو ? [10] منافقين نے بھي ناتوان اورسن رسيدہ افراد کي مدد کے بہانے مسجد کي تعمير کي جس کي تعمير ميں چار طرح کے مقاصد پوشيدہ تھے ?
1. مسلمانوں کو نقصان پہونچانا ?

منافقين بنے بنائے پروگرام کے تحت مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کي کوشش ميں تھے وہ ايک مرکز کي تعمير کرکے اورعوام کو اپنے اردگرد اکٹھا کرکے اسلام کي ترقي روکنے کوشش ميں تھے ?

2. ائين کفر کي تقويت اور لوگوں کو کفر کي طرف مائل کرنا ?

3. مسلمانوں کي صفوں ميں تفرقہ اندازي ?

تفرقہ معاشرے اور نظام کے ڈوبنے کا سبب ہے ، قران کريم اسي بنياد پر اتحاد ويکجہتي پر بہت زيادہ تاکيد کرتا ہے ? دنياے سامراجيت اج بھي اسي حربے کے ذريعہ مختلف اسلامي ممالک اور معاشرے ميں اپنے اھداف وپروگرام کو اجراء کرنے ميں کامياب ہے ?

بعض مفسرين اس ايت کي تفسيرميں يہ کہتے ہيں کہ مساجد کو ايک دوسرے کے بغل ميں بنانا مناسب نہي ہے کيوں کہ اس سے جمعيت بٹ جائے گي اور مسجدوں کي رونق ميں کمي انے کا انديشہ ہے اس کے علاوہ ھر ملک ومعاشرے ميں ايک رائج طريقہ ہے کہ ممالک عمومي مراکز کو ايک دوسرے سے نزديک بنانے کي اجازت نہي ديتے تاکہ ان عوامي مراکز کي رونق ميں کمي نہ انے پائے ?

4. ايک ايسے مکان کي تعمير جو دشمنان خداورسول خدا کے خلاف سرگرم افراد کے اجتماع کا مرکز ہو ?

قران کريم نے نصيحتوں اور خبروں کے ڈھانچے ميں زمانہ انبياء الھي کي داستانيں اور حوادث ، خصوصا زمانہ پيغمبر اسلام (صلي الله عليه وآله) کے جاودان واقعات فراوان ہيں ? قران کريم تمام مسلمانوں اور مومنوں کو ٹہوکا ديتا ہے کہ اپنے ديرينہ اور تاريخي دشمنوں کي بہ نسبت سادے اور سطحي نگر نہ ہوں ? اسلام دشمن عناصر اسلامي معاشرے پہ ضرب لگانے کي غرض سے تفرقہ اندازي جيسے حربے سے کام ليتے ہيں اور ازادي ، جمھوريت ، اصلاح ، تبديلي جيسي باتوں کے ذريعہ فريب دے کر انہيں نقصان پہونچانے کي کوشش کرتے ہيں ? مسجد ضرار کا واقعہ بخوبي بيان گر ہے کہ منافقين نے اپنے مقاصد تک رسائي کے لئے کيا مناسب صورت کا انتخاب کيا تھا ? [11]

مسجد ضرار؛ سامري کا گوسالہ

رواتيں مسجد ضرار کي تعمير کو ماجراے گوسالہ سامراي کي تکرار سے تشبيہ ديتيں ہيں ، بني اسرائيل نے اس وقت گوسالہ سامراي کي پرستش کا اغاز کيا جب ان کے نبي حضرت موسي علي نبينا والہ السلام زندہ تھے? [12] مسجد ضرار بھي گوسالہ سامراي کے مانند ہے مگر ايک دوسري شکل اور دوسرے ڈھانچے ميں تاکہ نادان اور سادہ لوح عوام کو دھوکہ دے سکيں اور پيغمبر اسلام (صلي الله عليه وآله) کي حيات ہي ميں مسلمانوں کو خداے وحدہ لاشريک کي پرستش سے دور کرسکيں ?

منافقين اس سازش ميں اگر چہ ناکام ہوگئے مگر اپني منافقانہ چال سے کبھي بازنہي ائے اورسازشوں کي دنيا ميں ہارنہي ماني ، پيغمبر اسلام (صلي الله عليه وآله) کي وفات کے بعد خود ساختہ خلفاء اور اماموں کے ذريعہ رسول اسلام (صلي الله عليه وآله) کے حقيقي وصي ، جانشين اور امام امت کو گوشہ نشين کرنا منافقين کي سازش کا ہي نتيجہ تھا ? اور انہي کہ سازش کے نتيجے ميں ايک کے بعد ايک معصوم امام کوشھادت ، اسارت ، مسموميت اور مظلوميت کا سامنا رہا ?

ھر زمانے کے منافقين :

انسانوں کا تين حصے ميں بٹ جانا ؛ مومن ، کافر اور منافق عصر اسلام ميں کوئي نئي يا اس زمانے سے مخصوص بات نہي تھي ، اور اس موجودہ زمانے ميں بھي منافقت کا مسئلہ ويسے ہي ہے جيسے صدر اسلام ميں تھا اور سورہ بقرہ کي ابتدائي ايات دونوں زمانے کے منافقين کو شامل ہيں ? [13]

لازم ہے کہ تينوں گروہ کي مکمل شناخت ہو اور ھر ايک کي بہ نسبت مناسب تدبيريں کي جائيں ، موجودہ اسرائيل اور عالمي صھيونيت نہ تنہا خيبر، بنى قريظه، بنى نضير و بنى قينقاع کے يھوديوں سے کم خطرناک نہي بلکہ ان سے کہيں زيادہ خطرناک ہيں اس زمانے کے مرحب وکعب وشاس وحارث اسلام کي بنياديں اکھاڑنے کے درپہ تھے اور اج اسرائيل اسي مقصد کے پيچھے ہے ?

اس زمانے ميں مدينے کے منافقين اسلام کي ترقي ميں روڑے اٹکاتے تھے اس زمانے کے منافقين اسلامي معاشرے ميں کفر واسلام دشمن عناصر کو فائدہ پہونچانے کي کوشش ميں ہيں ، اس زمانے ميں عبد اللَّه بن ابى مکہ کے مشرکين اوراطراف مدينہ کے يھوديوں سے کہتا تھا کہ ھم تمھارے ساتھ ہيں اور مسلمانوں کا مضحکہ اڑاتے ہيں اج کے منافقين بھي کچھ ايسے ہيں ، سچ ہے کہ قران کے پيرو افراد پر لازم ہے کہ ھر زمانے کے منافقين وکفار سے مکمل اشنائي اور ان سے اپنے روابط صاف رکھيں ?

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

منابع وماخذ :

8. سورہ توبه: ايت 107.
9. تفسير مجمع البيان، ج 5، ص 72؛ تفسير الميزان،‌ج 9، ص 412؛ تفسير صافي، ج 2، ص 374؛ تفسير الکاشف، ج 4، ص 101؛ تفسير فخر رازي، ج 16، ص 198.
10. پچھلا.
11. تفسير نسيم حيات، ج 11، ص 52 و 53.
12. تفسير الکاشف، ج 4، ص 102.
13. تفسير احسن الحديث، ج 1، ص 62.
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬