سري لنکا کے بڑے پجاري :

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق پروفيسر نابيريتا کاواوارا نے علوم اسلامي و ثقافتي ريسرچ سينٹر کے محققين کے ممبروں کے ساتھ ہوئے باھمي نشست ميں بيان کيا : اگر ھم لوگ کسي بھي مواقع يا کسي بھي بنا پر ايک دوسرے کے مقدسات کي توھين کرے نگے تو ہمارا مقابل دوسرا بھي ہمارے مقدسات کي توھين کرے گا ?
انہوں نے وضاحت کي : اديان کے درميان اختلاف کم کرنے اور غصہ و انساني مشکلات کو ختم کرنے کے لئے اسلام اور بوديسٹ جيسے بڑے اديان کے عالم دين اور مفکرين مؤثر ثابت ہونگے ?
انہوں نے اظہار کيا : ھم اديان کے ماننے والے کم وقت ميں انسان کے لئے بڑے کام انجام ديں اور اس حساس ذمہ داري کے لئے مسلمان اور بوديسٹ ايک دوسرے سے الگ نہي ہو سکتے ہيں ?
پروفيسر نابيريتا کاواوارا نے وضاحت کي : گوتم بودھ نے ھم لوگوں کو تعليم دي ہے کہ دوسروں کي عزت و احترام کرو تا کہ وہ لوگ بھي ھمارا احترام کريں اور يقينا اگر ھم دوسروں کي توھين کرينگے تو اس کے مقابلہ ميں وہ بھي ھماري توھين کرے گا ?
انہوں نے بيان کيا : افسوس کي بات ہے کہ کبھي کبھي دين اور ديني اعتقاد کے استفادہ سے ايک دوسري کي توھين ہوتي ہے اور اسي وجہ سے مسلمان اور بوديسٹ دونوں اس حادثہ ميں نقصان اٹھا چکے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے