
حامد عبداللهي
ايک زمانہ ميں شبہ جزيرہ عرب حجاز ايراني رياست کا دور دراز حصہ تھا اور يمن کا والي ايران کے بادشاہ کے حکم سے معين کيا جاتا تھا کہ اسي زمانہ ميں اشرف مخلوقات ، خلق عظيم کا مالک ، قريش کا امين ، محمد ابن عبدالله غار حرا مکہ ميں رسالت کے مقام پر فائز ہوئے ?
حجاز کے عرب باشندہ سخت جہالت ميں گرفتار تھے کہ پيغمبر اکرم (ص) ان کے جوانوں ميں سے فاتح و قوي لوگوں کو تيار کيا اور ايک دعوت کا خط رسول اللہ کي جانب سے اس زمانہ کے بادشاہ کو بھيجا گيا اور يہ مغرور ايران کا بادشاہ تھا کہ جس نے اس مبارک خط کو پھار ديا لھذا خدا نے بھي اس کے تخت سلطنت کو نابود کر ديا ?
اھل عرب جب شمالي علاقہ اور پارسيوں کے مرکز کي طرف اشارہ کرتے تھے تو ايک عظيم دريا کي طرف توجہ ہوتي تھي تو اس کا نام خليج رکھا گيا ? اور اس خليج کا ايک عربي نام تھا جس کو فارس کہتے ہيں ? اھل عرب عربي عبارت ميں « خليج فارس» کے استعمال سے اسے جانتے تھے کہ اس سے کون سا علاقہ مراد ہے ? وہي نذديک ترين ملک ہے جس سے روميوں نے شکست کھائي تھي اور کچھ ہي دنوں بعد کاميابي بھي حاصل کي اور خدا کا وعدہ حق تھا ? [1]
جس وقت اسلام کا پيغام مشرکوں کے ملک سے خدا پرست ايراني کے کانوں تک پہوچي تو اپنے منحرف دين کو چھوڑ کر خدا کي ا?سماني تعليمات کي طرف لوٹ گئے ? کل کے مجوسي مسلمان ہو گئے ليکن خدا نے ان عربوں کے لئے فرمايا کہ اگر قرا?ن کو غير عربي زبان ميں نازل کرتا تو يہ لوگ اس کو قبول نہي کرتے ! [2]
عرب اپني اولي جہالت کو چھوڑ ديا اور قرا?ن عربي کو قبول کر ليا ليکن پيغمبر اکرم (ص) کے بعد اپنے پہلي حالت پر لوٹ گئے اور ولايت اور امامت کو چھوڑ کر خلافت پر اکتفاء کيا اور حديث اور سنت کو نظر انداز کر کے اپنے اجتہاد پر بھروسہ کيا اور صحابہ اور منافقوں کو ايک ہي صف ميں رکھا ، يہي وہ وجہ تھي کہ جاہليت کا نيا دور شروع ہوا جس کو اس زمانہ ميں ھم لوگ ديکھ رہے ہيں ?
قرا?ن عربي الفاظ کے مسجع سے تنزل پيدا کيا کہ تفسير و مفسر کي ضرورت ختم ہو گئي اور قرا?ن صرف مصري جلسہ اور بدعت تراويح نماز ميں پڑھي جانے لگي ?
مسلمان طاغوت کے سامنے جھک گئے اور صدياں ايسے ہي گذار دي گئي اسي اثنا ميں برطانيہ اپنے مفاد کے حصول کے لئے مسلمانوں ميں نفوذ کيا اور اس کے بعد مسلمانوں کے درميان تفرقہ پھيلايا جس کے نتيجہ ميں دو انتھا پسند فرقہ بھائيت و وھابيت شيعہ اور سني دو عقيدہ ميں سامنے ا?يا جو برطانيہ کا سياسي ثمرہ ہے ?
بھائيوں نے ا?ئيندہ کي طرف رخ کرتے ہوئے فلسفہ انتظار موعود سے فائيدہ اٹھايا اور حد سے ا?گے بڑھ گئے اور نئے دين اور نئے خدا کي تخليق کي اور وھابيوں نے گذشتہ کي طرف قدم بڑھايا اور اس خدا تک پہونچے کہ جس کي اپنے مخلوق پر کوئي نشانياں نہي ہے اور منفرد ہے ! يہ لوگ توحيد سے انفراديت تک پہوچ گئے اور ھر وہ چيزيں جو خدا کي علامت رہي ہو اس پر شرک کے بہانہ سے حملہ کيا اور تکفير کي گندہ تازيانہ لاکھوں مسلمانوں پر چلائي ? صرف کعبہ اور مزار نبي ان کے ہاتھ سے محفوظ ہے ورنہ يہ مکعب گھر اور وہ قبر شريف بھي ان کے نگاہ ميں شرک کے علاوہ کچھ نہي ہے ?
قرا?ن و خدا کے ولي سے توسل ، خدا کي اجازت سے غير خدا سے مدد جس کا ذکر قرا?ن ميں کئي مرتبہ ا?يا ہے اور روح القدس، فرشتوں و نا مرئي جنود [5] ان ميں سے ہيں ، ان کو شرک جانا گيا اور وہ مسلمان جو خدا کي وحدانيت اور پيغمبر خدا کي حقانيت اور خدا کي کتاب کي صداقت پر ايمان رکھتے ہيں ان کے خون کو جائز سمجھا جانے لگا ، کيا يہ انہي کے اجداد نہي تھے جو بغير کسي بھي گناہ کے اپني بيٹي کو زندہ دفن کر ديا کرتے تھے [6] اور کيا يہ تمام بغض و عداوت اسي جاھلي حوصلہ افزائي کا سلسلہ نہي ہے ؟ [7]
اس وقت سوال يہ ہے کہ عصر حاضر ميں جہاں سب جمہوريت کا دعوا کرتے ہيں تو کيوں حجاز کي عوام اپني مستقبل کے تعين کي صلاحت نہي رکھتي ہيں اور خواتين انسانوں ميں شمار نہي کي جاتي ہيں ؟ کس حکم کے مطابق حاکم کا بيٹا ہي حاکم ہو اور عوام اس کي اطاعت کرے ?
اور سعودي کے خليفہ اور امريکا کے درميان کيا نسبت پائي جاتي ہے کہ مسلمانوں کے تيل کو ان کے بجٹ ميں قربان کيا جا رہا ہے اور اس کي ا?مدني کو اسلامي دنيا پر خرچ کرنے کے بجائے ايک زمانہ ميں صدام کے گلے ميں اوڈيلا جس کي قے کے نتيجہ ميں کويت کو برباد کيا گيا اور کبھي سلفي خشک خوارج مسلک کي پرورش کي کہ اس کے دہشت گردي کے اعمال سے دنيا کو اسلام سے متنفر کر ديا ?
کئي سال ہو گئے ہيں صھہوني سے عرب کے ? روزہ بے عاقلانہ جنگ کو اور ھر روز عرب پہلے سے زيادہ خوار ہو رہا ہے جو صلاح الدين متعصب سے ياسر عرفات بي غيرت تک پہونچا ہے ?
کہاں ہيں وہ شجاعان مبارز قوي عرب جن کے تلوار کي رقص ايک ھزار ايک شب کي کہاني ہے اور اسلام کے نام پر جنگ ان کا نعرہ ہے او ا?ج کافروں کے ساتھ مجلس شراب ميں سب سے ا?گے ہيں جن کي تصوير چائينلوں پر نمايہ و باعث حيرت ہے ؟ ہاں ان صحرا کے ڈرپوکوں کو ا?ج بحرين ميں ديکھا جا سکتا ہے ?
ايک زمانہ ميں بحريني خليج فارس ميں عرب کا موتي تھا اور ايراني تمدن پر افتخار ، پرتگالي کے ہاتھوں ميں قيد ہوا اور پھر انگليسي کے ذريعہ اور ا?ج ا?ل خليفہ کے چنگل ميں گرفتار ہے ?
وہ خاندان جو کہ اپنے فلسطيني بھائي کي ا?واز نہي سنتے ہيں کيونکہ ان کي خلافت صھيوني اسرائيل کے مرحون منت ہے !
ا?ج دوبارہ بحرين کافروں کے غلام کے ذريعہ غصب ہو گيا ہے ? وہ جو اسلام کے نام پر کافروں کے منصوبہ کو چلا رہي ہے اور اپنے بھائي کا قتل عام کر رہي ہے تا کہ خدا کا نور ختم کر سکيں ! ليکن «وَ سَيَعْلَمُ الَّذينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ» [8]
ـــــــــــــــــــــــــ
1. نگر: سوره روم آيات اول
2. نگر: سوره شعرا آيه 198
3. نگر: احزاب 33
4. نگر:آل عمران144
5. نگر:سوره توبه آيه 26و 40 و سوره فتح آيه 4
6. نگر: سوره تکويرآيه 8
7. نگر: سوره فتح آيه 26
8. شعرا 227
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے