خاندان آل سعود کي ايک فرد:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، خاندان آل سعود کي ايک فرد ، امير «طلال عبدالعزيز» نے نيو يارک ٹائمز سے گفتگو ميں عربستان کے موجودہ نظام ميں ميں تبديليوں پہ ضرور ديتے ہوئے کہا : خاندان ال سعود کے بہت تھوڑے سے لوگ موجودہ نظام ميں تبديلي کے مخالف ہيں ?
انہوں نے مزيد کہا : بنيادي مشکل يہ ہے کہ بعض حکام دنيا ميں پيش انے والي تبديليوں کي جانب متوجہ نہي ہيں ، ان واقعات سے عبرت نہي ليتے وہ تاريخ کے دئے ہوئے درس سے عبرت حاصل نہي کرتے ?
طلال عبدالعزيز نے واضح طور پر کہا : يہ لوگ فقط اپني قدرت وطاقت اور اپنے منصب کے تحفظ ميں لگے ہيں اور اسي بنياد پر ملک کو موجودہ صورت ميں باقي رکھنا چاھتے ہيں ?
سعوديہ کي اس اھم فرد نے عربستان کے حکام کو ڈرپوک کہتے ہوئے تاکيد کي : عربستان کے حکام تنگ نظر ہونے کي بناء پر تبديلي جيسے کلمات سے خوف زدہ ہيں ميں اس طرز تفکر کے تبديل کرنے ميں متحير رہ گيا ہوں ?
قابل ذکر ہے کہ امير طلال عبدالعزيز ان لوگوں ميں سے ہيں جس نے برسوں قبل عربستان ميں تبديليوں پہ زور ديا تھا اور اسي حوالے سے انہوں نے سن 1958 ميں ايک ليبرل سياسي پارٹي بھي بنائي تھي ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے