26 June 2011 - 15:34
خبر کا کوڈ: 2935
فونت
قائد انقلاب اسلامي :
رسا نيوزايجنسي -قائد انقلاب اسلامي نے عراقي صدر جمھوريہ جلال طالباني سے ملاقات ميں يہ کہتے ہوئے کہ مشرق وسطي ميں امريکي پاليسي کے ضعف وناتواني سے قوموں کو بھرپور استفادہ کرنا چاھئے تاکيد کي کہ امريکيوں کي غاصبانہ موجودگي عراقي مشکلات کي بنيادي جڑ ہے ?
قائد انقلاب اسلامي

رسا نيوزايجنسي کي رھبر معظم کي خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے سنيچر کي شام عراق کے صدر جلال طالباني سے ملاقات ميں امريکيوں کي غاصبانہ اور مداخلت پسندانہ موجودگي کو عراق کي مشکلات کي جڑ قرار ديا اور فرمايا کہ اس متکبرانہ موجودگي کے باوجود علاقے ميں جاري واقعات و تغيرات سے معلوم ہوتا ہے کہ امريکہ کي مشرق وسطي حکمت عملي کمزور پڑتي جا رہي ہے لہذا قوموں کو چاہئے کہ اس حقيقت سے استفادہ کريں?

قائد انقلاب اسلامي نے مسائل کے تصفئے کے لئے عراقي قوم اور حکومت کي جانب سے کئے جانے والے ٹھوس اقدامات پر خوشي کا اظہار کرتے ہوئے فرمايا کہ عراق کي عظيم الشان قوم اور اس ملک کے حکام دشوار گزار راہوں سے عبور کرتے ہوئے اس وقت گزشتہ برسوں کے پرمحن دور سے نجات کے قريب پہنچ چکے ہيں لہذا انہيں چاہئے کہ حکمت و تدبر اور صبر و تحمل سے باقي ماندہ مسائل کو بھي حل کريں?

قائد انقلاب اسلامي نے ايران عراق تعاون کے زيادہ سے زيادہ فروغ پر زور ديتے ہوئے اس تعاون کو ايک فطري امر اور دونوں قوموں کي حقيقي اخوت و دوستي کي علامت قرار ديا? آپ نے فرمايا کہ ايران اور عراق کي مسلح فورسز آٹھ سال تک ايک دوسرے سے برسر پيکار رہيں ليکن دونوں قوموں ميں ايک دوسرے کے لئے کوئي کدورت نہيں پائي جاتي کيونکہ انہيں معلوم ہے کہ صدام کي معزول حکومت ان دونوں دوست اور برادر قوموں کے درميان جنگ کي واحد وجہ تھي?

قائد انقلاب اسلامي نے اسلامي جمہوريہ ايران اور عراق کے حکام کے درميان دوستانہ تعلقات کا ذکر کيا اور ان دوستانہ روابط کو کمزور کرنے کي بعض کوششوں کو عبث اقدامات سے تعبير کيا? آپ نے فرمايا کہ گہرے ديني و ثقافتي رشتوں کے زير سايہ دونوں قوموں کے تعلقات اور تعاون کو روز افزوں فروغ حاصل ہوگا? قائد انقلاب اسلامي نے عراقي حلقوں ميں زيادہ سے زيادہ اتحاد اور يگانگت کو ملک کے استحکام کا باعث قرار ديا اور فرمايا کہ عراق ميں اپني موجودگي جاري رکھنے کے لئے امريکيوں نے عراق کے مختلف سياسي حلقوں کے اختلاف سے بڑي اميد لگا رکھي ہے لہذا عراقي تنظيموں کو چاہئے کہ دانشمندي کا ثبوت ديتے ہوئے امريکيوں کے عزائم کو ناکام بنائيں?

اس ملاقات ميں عراق کے صدر جلال طالباني نے بھي ايران اور عراق کے عوام کے تاريخي رشتوں کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ تہران بغداد سياسي، اقتصادي اور ثقافتي تعلقات ارتقائي منزليں طے کر رہے ہيں اور ہم اميد کرتے ہيں کہ ايران کے پاس دستياب ٹکنالوجي اور تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ہم عراق کي بنيادي تنصيبات کي تعمير نو ميں کامياب ہوں گے? جناب طالباني نے کہا کہ عراق کے مختلف سياسي حلقے اور جماعتيں ملک کي تعمير و ترقي کے سلسلے ميں اتفاق رائے رکھتے ہيں اور ايک آواز ہوکر امريکي فوجيوں کي موجودگي کي مخالفت کر رہے ہيں?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬