ميرانيس کو خراج تحسين پيش کرتے ہوئے ؛

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، انيس اورانيس شناس کے موضوع پردو روزہ سمينار سياسي ، سماجي افراد اور دانشوروں کي موجودگي مميں منعقد ہوا ?
اس سمينار ميں سابق صدر شعبہ الہ اباد يونيورسٹي پروفيسر فضل امام نے تقرير کرتے ہوئے کہا کہ مير انيس کو در اصل ھر لمحہ حيات کا شاعر قرار دينا چاھئے کيوں کہ انيس ايک ايسے شاعر ہيں جنہوں نے فني نزاکتوں کے ساتھ فکر کے جوھرکو اپنے مراثي ميں پيش کيا ?
انہوں نے مزيد کہا کہ اج جب دنيا کے ھر گوشے ميں انسانيت پائمال ہورہي ہے تو ان کي شاعري درس اخلاق سے اشنا کرانے کا کام کرسکتي ہے ?
اگرا يونيورسٹي کے سابق وائس چانسلرمنظور احمد نے مير انيس کي شخصيت پر روشني ڈالتے ہوئے کہا کہ انيس کا کوئي ثاني نہي انہوں نے مرثيہ گوئي کو وہ اونچائي عطا کي جو ان کے بعد کسي شاعر کو نصيب نہ ہوسکي ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے