05 July 2011 - 17:44
خبر کا کوڈ: 2975
فونت
آيت الله تهراني :
رسا نيوزايجنسي - آيت الله تهراني نے کہا : بعض افراد کا کہنا ہے کہ کفار گناہوں ميں غرق ہونے کے باوجود کيوں اچھي حالت ميں ہيں اس کا جواب يہ ہے کہ خداوند متعال نے ان سے شکر گزاري کي توفيق سلب کرلي ہے جو ان کے نقصان ميں ہے ?
آيت الله تهراني

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، آيت الله مجتبي تهراني نے ماہ شعبان المعظم کے اغاز کي مناسبت سے درس اخلاق ميں اس مہينہ کي فضيلتيں بيان کي ?

بسم الله الرحمن الرحيم
روي عن الحسين‏ بن‏علي (عليهما‏السلام) قال: الِاسْتِدْرَاجُ مِنَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ لِعَبْدِهِ أَنْ يُسْبِغَ عَلَيْهِ النِّعَمَ وَ يَسْلُبَهُ الشُّکْر.

حضرت امام حسين (صلوات الله‏ عليه) سے منقول روايت ، اپ نے اس روايت ميں فرمايا : خدا وند متعال کي جانب سے بندے کے حق ميں استدراج کے معني يہ ہيں کہ خدا بندے کو ايک طرف بے حساب نعمت عطا کرتا ہے اور دوسري طرف اس سے نعمت شکر سلب کرليتا ہے ?

معناي «استدراج »

ھم نے اس پہلے بھي حادثات ، مصيبتوں اور گناہوں کے رابطے کے حوالے سے متعدد روايتيں پيش کي ہيں جس کي تکرار کا مزيد ارادہ نہي ، اس روايت ميں امام حسين عليہ السلام نے استدراج کي جانب اشارہ کيا ہے جو انسانوں کي مصيبتوں کے اسباب ميں سے ہے ?

امام حسين عليہ السلام نے اس روايت ميں استدراج کے يہ معني کئے ہيں کہ خدا بندوں کو بے شمار نعمتيں عطا کرتا ہے مگراس سے شکر کي توفيق سلب کرليتا ہے اوروہ اسي بنياد پرخدا کي عطا کردہ کي نعمتوں کے شکرانے سے محروم ہوتے ہيں ?

استدراج کيوں ؟

يہاں سوال اٹھتا ہے کہ خداوند متعال بندے کے حق ميں اسے کيوں انجام ديتا ہے اور شکرانے کي توفيق اس سے سلب کرليتا ہے ؟ اس نے جب بندے کو نعمت عطا کي ہے تو اسے توفيق شکر بھي دے دے ؟ اس کا مقصد کيا ہے کہ نعمت تو عطا کرے مگر توفيق شکر سلب کرلے ؟ خدا کيوں بندے سے شکرانے کي توفيق سلب کرلي جس کي بنياد پر وہ ان نعمتوں کا شکرانہ ادا نہ کرسکا ، يہ کيونکر ممکن ہے کہ خدا اپنے بندے کے ساتھ ايسا برتاو کرے ؟

ناشکري اور نعمتوں کي قسميں :

حضرت امام صادق عليہ السلام سے روايت ہے کہ کبھي خدا بندے کو نعمت عطا کرتا ہے اور بندہ بھي اسے معصيت کي راہ ميں خرچ کرتا ہے اور اسے گناہ کا وسيلہ قرار ديتا ہے ?

اس روايت ميں نعمت سے مراد فقط پيسہ ہي نہي ہے بلکہ انسان کي انکھيں ، کان ، زبان اور تمام انساني توانائياں شامل ہيں ، تمام وہ نعمتيں ہيں جسے خدا نے انسانوں کو عطا کيا ہے ، اپني انکھيں کھوليں اور خدا داد نعمتوں کو پہچانيں ، متصل اور منفصل نعمتيں ہيں جو انسان کے پورے وجود اور جو کچھ بھي اس انسان سے متعلق ہے کو شامل ہے يعني " اي انسان ؛ تيرا پورا وجود اور جو کچھ بھي تيرے وجود سے مربوط ہے سب کچھ خدا کي عطا کردہ نعمت ہے " اگر انسان نے کسي نعمت کا استعمال حرام ميں کيا اور گناہ کيا تو خدا وند متعال اسے توبہ و استغفار کي مہلت ديتا ہے تاکہ توبہ کرسکے ?

قران کريم بھي اس طرح کي باتوں کي جانب اشارہ کرتا ہے : « إِنَّما نُمْلي‏ لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْما ً» خدا بندوں کو مہلت ديتا ہے کہ دکھيں وہ توبہ کرتے ہيں يا نہي ، اگر استغفار کيا بہتر وگرنہ خدا نعمتوں ميں اضافہ کرتا اور شکرانے کي توفيق سلب کر کے دوبارہ نعمتيں ديتا ہے ، يہ باتيں بے حساب وکتاب نہي کہ خدا اپنے بندوں نعمت دے اور شکرانے کي توفيق سلب کرلے ?

جب بندے نے گناہ کيا اور عقاب کے بدلے اس کي نعمتيں کثير ہوتي چلي گئيں اہستہ اہستہ سوچتا ہے کہ کيوں اتنا زيادہ گناہيں کرتا مگر کوئي حادثہ پيش نہي اتا ، کہيں ايسا تو نہي کہ عقاب کي کوئي حقيقت نہ ہو ، نعوذ بالله شايد حلال وحرام کي کوئي حقيقت ہي نہ ہو اور يہيں سے انسان کفر کي وادي ميں قدم رکھتا ہے ?

کيوں کفار کے حالات بہتر ہيں ؟

اپ شاھد ہيں کہ کفار کے حالات بہتر ہيں مگر يہ استدراج کي بنياد پر ہيں اگر کوئي کہے کہ کفار تمام گناہوں کو انجام دينے کے باوجود کيوں اچھي حالت ميں ہيں ؟ اس کا جواب يہ ہے کہ خداوند متعال نے انہيں استدراج ميں مبتلا کررکھا ہے ، ان سے شکر گزاري کي توفيق سلب کرلي گئي ہے جو خود ان کے ضررونقصان ميں ہے ?

مسلمانوں کي بلاوں کے اسباب

بعض مسلمان بھي اس لحاظ سے کفار کے مانند ہيں اگر انہيں نعمت الھي ملتي ہے تو اسے راہ غضب الھي ميں استعمال کرتے ہيں خداوند متعال انہيں بھي توبہ واستغفار کا موقع ديتا ہے اگر انہوں نے توبہ کيا تو کيا کہنا وگرنہ شکرانے کي توفيق ان سے سلب کرليتا ہے اورپھروہ استدراج سے روبرو ہوتے ہيں ھماري مصيبتوں کي جڑيں بھي يہي ہيں ھم نعمتوں کا نعوذباللہ گناہ کے راستے ميں استعمال کرتے ہيں اور پھر مختلف قسم کي مصيبتوں ميں مبتلا ہوتے ہيں تاکہ خواب غفلت سے بيدار ہوں اور استغفار کريں ، يہ مصبتيں بھي ايک طرح سے ھمارے لئے تذکراور ياد دہاني کي حثيت رکھتي ہيں جسے خدا بندے کو ہوشيار کرنے کے لئے قرار ديتا ہے تاکہ بندہ اس کي بارگاہ ميں فرياد کرسکے خدايا ھم تجھ سے معذرت خواہ ہيں کہ ھم نے تيري دي ہوئي نعمتوں کو گناہ کے راستے ميں صرف کيا ?

ماہ شعبان کي خاص منزلت :

«استغفار کرنا رحمه ‏للعالمين » کي مدد کرنے برابر ہے

ماہ شعبان ، ماہ استغفار اور ماہ پيغمبر اسلام ہے روايات ميں موجود ہے کہ حضرت نے فرمايا : «أَلَا إِنَّ شَعْبَانَ شَهْرِي فَرَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَعَانَنِي عَلَى شَهْرِي‏» ماہ شعبان ميرا مہينہ ہے جوکوئي اس ماہ ميں ميري مدد کرے گا خدا اس پر رحمت نازل کرے ، اس کا کيا مطلب ؟

پيغمبر اسلام چونکہ رحمت للعالمين ہيں گويا اپکي رحمت سب کے لئے ہے اور يہ ماہ بھي ماہ پيغمبر ہے يعني اپ بندوں کے حق ميں دعا گو ہيں ہے کہ خدا تمام بندوں کي مغفرت کرکے اپ کي رداے رحمت ان کے سروں پر ڈال دے اسي بنياد پر ھم سے مطالبہ ہے کہ ھم استغفاروتوبہ کے ذريعہ اپني مغفرت کرا کر اپ کي رحمتوں کے سايہ کو سايہ فگن ہونے ديں ?

يہ مہينہ طھارتوں کا مہينہ ہے ، ايسا مہينہ ہے جس ميں خدا کا نبي اپني امت کي گناہوں کي بخشش کے لئے خدا کي بارگاہ ميں شفاعت کرتا ہے لھذا ائيے ھم نے جس قدر بھي کفران نعمت کيا ہو اور استغفار نہي کيا ہے تو اب اپني انکھيں کھوليں اور استغفار کريں ?

اسي بنياد پر اس ماہ ميں سب سے پہلے روزہ رکھنے اور پھر استغفار کي تاکيد کي گئي مفاتيح‏ الجنان ميں ديکھيں اس ماہ ميں دو استغفار ہيں ايک يہ کہ انسان ھر روز ستر بار کہے : « أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَ أَسْأَلُهُ التَّوْبَةَ » خدا سے استغفار کرتا ہوں اور اس کي بارگاہ ميں توبہ کرتا ہوں اور دوسرے يہ کہ ھر روز ستر دفعہ کہے : « أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ» وہ خدا جس کے علاوہ کوئي خدا نہي جو مہربان و بخشش والا ہے ، زندہ وپايندہ ہے اس سے طلب مغفرت کرتا ہوں ?


تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬