ماہ شعبان ماہ جشن وسرور : اشھد نقوي ؛

تين شعبان کو نواس? رسول امام حسين (ع) اور4 شعبان کو تمنائے علي و بتول حضرت ابولفضل العباس اور5 شعبان کو انقلاب حسيني کے پاسبان حضرت امام زين العابدين علھيم السلام اور 15 شعبان المعظم کو بقي? اللہ الاعظم حجت حق امام مہدي موعود کي ولادت کا دن ہے ?
تين شعبان المعظم سنہ 4 ہجري اورچھ سو پينتيس عيسوي کو رسول اعظم حضرت محمد مصطفي? صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے پيارے نواسے امام حسين (ع) کے نور وجود سے " مدين? النبي " کے بام و در روشن و منور ہوگئے ? مرسل اعظم (ص) کي باعظمت بيٹي حضرت فاطمہ زہرا (س) اور عظيم داماد و جانشين علي ابن ابي طالب کے پاکيزہ گھر ميں نسل نبوت و امامت کے ذمہ دار امام حسين (ع) کي آمد کي خبر سن کر پيغمبر اسلام (ص) کا دل شاد ہوگيا ،آنکھيں ماہ لقا کے ديدار کے لئے بيچين ہو اٹھيں
اپ فورا بيٹي کے حجرے ميں داخل ہوئے اور مولود زہرا (س) کو ديکھتے ہي لبوں پر مسرت کي لہريں پھيل گئيں اپ نے سراسر رحمت ميں بھري آغوش ميں مولود کو لے کر پيشاني کا بوسہ ليا اور فرزند کے دہن ميں اپني زبان دے دي اور رسالتمآب کا لعاب دہن فاطمہ (س) کے چاند کي پہلي غذا قرار پايا ?
جبرئيل امين کي سربراہي ميں ملائکہ اسمان کا نزول ہوا سب نے خدا کي جانب سے خدا کے حبيب کو نواسے کي مبارک باد پيش کرتے ہوئے کہا : اے اللہ کے رسول ! خدا نے اس معصوم کا نام حسين (ع) رکھا ہے ?
نام سنتے ہي رسول اعظم (ص) کي آنکھيں جھلملا اٹھيں بچے کو سينے سے چمٹاليا بيٹي نے باپ کي طرف سواليہ نگاہوں سےديکھا تو رسول اسلام (ص) نےامين وحي کي زباني حسين (ع) کا صحيف? شہادت نقل کرديا اور بخشش امت کے وعدے پراپني لخت جگر ، مادر حسين (ع) کو راضي کرليا ?
علي (ع) و فاطمہ (س) کا چاند چھ سال تک آفتاب نبوت و رسالت کي تمازتيں ليکر نانا کے ساتھ ساتھ رہا اور تاريخ اسلام گواہ ہے کہ مدين? منورہ ميں نانا اور نواسے کي محبت ضرب المثل بن گئي اور ايسا کيوں نہ ہوتا جبکہ حسين (ع) مشيت الہي کا محور اور پيغمبر اسلام (ص) کي دلبر کے دلبر تھے ?
حسين (ع) کي شان ميں قرآن حکيم رطب اللسان اور ان سے اسلام و ايمان سربلند و ذيشان ہے حسين (ع) نورٌ علي? نور کي تفسير نورالنور کي تنوير ، مجسم? رسالت کي تصويراور مکمل نبوت کي تعبير ہيں، حسين (ع) قرآن مجيد کي تحرير ، دين الہي کي شمشير ، انوار ولايت کي تکبير اور اسرار امامت کي تشہير ہيں ، حسين (ع) نورنگاہ نبوت ،جگرگوش? عصمت ، جلوہ نمائے ولايت اور قوت اسلام و شريعت ہيں ، حسين (ع) آسمان شہادت کا آفتاب ، افق ہدايت کا ماہتاب، گلشن توحيد کا سرخ گلاب اور خزان? اسلام کا گوہر ناياب ہيں ?
محدثين صحاح ستّہ کي تحرير کردہ صحيح روايتوں کے مطابق خداوند عالم نے اپني کتاب قرآن مجيد ميں مختلف عنوانوں سے امام حسين (ع) کا تعارف کرايا ہے ، جب " اصحاب کساء " رسول اعظم (ص) کے ساتھ چادر تطہير ميں جمع ہوگئے رسول اسلام (ص) نے علي و فاطمہ اور حسن و حسين عليہم السلام کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا : َللّہُمّ ہ?ؤلاء اَہلُ بَيتي فَاذہب عَنہُمُ الرّجس وَ طَہّرہُم تطہيرَا"خدايا يہ ميرے اہل بيت ہيں پس ان کو ہر قسم کي آلائش سے پاک و پاکيزہ قراردے دے ، اس وقت آي? تطہير نازل ہوئي اور اہل بيت عليہم السلام منجملہ حضرت امام حسين (ع) کي عصمت و طہارت کا خدا نے اعلان کرديا?
اسي طرح آي? مباہلہ کے ذيل مين مفسرين کا اجماع ہے کہ اس ميں : "ابنائنا " سے مراد امام حسن اور امام حسين عليہما السلام ہيں جن کو خداوند عالم نے" رسول اسلام کے بيٹے " قرارديا ہے ?اور آي? مودت کے بارے ميں مفسرين اہل سنت نے بھي لکھا ہے کہ يہ آيت علي (ع) و فاطمہ (س) اور حسن (ع) و حسين (ع) کي شان ميں نازل ہوئي ہے ?
چنانچہ امام بخاري اور امام مسلم نے اپني صحيحين ميں اور ثعلبي و طبرسي نے اپني تفاسير ميں ابن عباس سے نقل کيا ہے کہ آي? مودت نازل ہوئي تو اصحاب نے حضور (ص) سے سوال کيا آپ کے قرابتدار کون ہيں تو حضرت نے فرمايا : علي وَ فَاطمہ وَ اَبنَاھمَا علي (ع) و فاطمہ (س) اور ان کے دو نوں بچے ?
نبي اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے خود بھي وقتا فوقتا ، جگہ جگہ امام حسين (ع) کي شخصيت کا تعارف کرايا ہے ، صحيح ترمذي ميں يعلي ابن مرہ سے روايت ہے کہ نبي اکرم (ص) نے فرمايا ہے : " حسين مني و انا من الحسين احب اللہ من احب حسينا" حسين مجھ سے ہيں اور ميں حسين سے ہوں اور خدا اس کو دوست رکھتا ہے جو حسين (ع) کو دوست رکھتا ہے ?
اسي طرح سلمان فارسي سے روايت ہے کہ ميں نے نبي اکرم کو کہتے سنا ہے حسن و حسين ميرے بيٹے ہيں جس نے ان سے دوستي کي ميرا دوست ہے اور جس نے ان سے دشمني کي وہ ميرا دشمن ہے ?
بہرحال امام حسين (ع) کي شخصيت سے رفتار و کردار کي جو شعاعيں پھوٹي ہيں آج بھي الہي مکتب کي فکري ،اخلاقي اور تہذيبي حيات کي اساس وبنياد ہيں اور نہ صرف عالم اسلام بلکہ پورا عالم بشريت حسينيت کي مشعل سے فروزاں ہے اپ کي عبادت و بندگي کا يہ عالم تھا کہ جب آپ وضو کرتے تھے تو بدن ميں تھرتھري پيدا ہوجاتي تھي کسي نےاپ اس کي وجہ دريافت کي تو امام حسين (ع) نے فرمايا : حق يہي ہے کہ جو شخص کسي قوي و مقتدر حاکم کي بارگاہ ميں کھڑا ہوتو اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑجائے اور جسم کے بند بند کانپ اٹھيں ?
اپ نے شب عاشور دشمنوں سے عبادت کے لئے ايک شب کي مہلت مانگي توکسي نے اس کي وجہ پوچھي اس وقت آپ نے فرمايا : چاہتا ہوں آخري رات پروردگار کي عبادت ميں گزاروں اور استغفار کروں وہ جانتا ہے ميں کس قدر نماز کا عاشق ہوں اور قرآن کي تلاوت پسند کرتا ہوں اور زيادہ سے زيادہ دعا و استغفار کرنا چاہتا ہوں ?
دوسري جانب خدا کے بندوں کے ساتھ آپ کے کريمانہ اخلاق و رفتار کا يہ عالم تھا کہ اس ميدان ميں بھي امام حسين (ع) کي شخصيت نمونہ و مثال نظر آتي ہے چنانچہ ايک دن کچھ فقيروں اور ناداروں کے درميان سے گزرے سب کےسب زمين پر بيٹھے پتھروں سے ٹيک لگائے سوکھي روٹياں کھانے ميں مشغول تھے ? انہوں نے نواس? رسول (ص) کوسلام کيا اور جواب سلام کےبعد اپنے ساتھ کھانے ميں شرکت کي دعوت دي? امام حسين عليہ السلام ان کے پاس بيٹھ گئے اور فرمايا : اگر تمہاري يہ خوراک صدقہ نہ ہوتي تو ميں ضرور تمہارے ساتھ يہ روٹياں کھاتا اور پھر ان سے خواہش کي : " قوموا الي منزلي " اٹھو اور ميرے ساتھ ميرے گھر چلو ، اور ان سب کو گھر لائے اور ان کے ساتھ بيٹھ کر کھانا کھايا اور سير و سيراب کرنے کے بعد انہيں لباس پہنايا اور کچھ نقد درہم دے کر رخصت کيا ?
اسي طرح حضرت علي (ع) کي ظاہري حکومت کے زمانے دارالحکومت کوفہ ميں ، ايک مدت سے بارش نہ ہونے کے سبب اہل کوفہ پريشان و مضطرب ہوئے سب امام کي خدمت ميں حاضر ہوئے اور اپني پريشانيوں کا ذکر کيا ، اور اميرالمومنين عليہ السلام سے باران رحمت کي دعا کا مطالبہ کيا اس وقت امام حسين عليہ السلام وہاں موجود تھے حضرت علي (ع) نے ان کي طرف ديکھا اور فرمايا : "بيٹے اٹھئے اور خداوند متعال سے دعا کيجئے کہ وہ ان لوگوں پر اپني بارش رحمت نازل فرمائے ? امام حسين (ع) اٹھے اور زير آسمان ہاتھ پھيلا دئے اور حمد و ثنائے الہي اور محمد و آل محمد عليہم السلام پر درود و سلام کے بعد فرمايا : اے ہم سب کے پروردگار! اے نيکياں عطا کرنے اور برکتيں نازل کرنے والے ہم کو باران آسماني سے سيراب کردے ،ايسي بارش ،جو فراواں ، مسلسل ، وسيع سطح پر ٹوٹ کر برسے جھماجھم ، موسلادھار ، خشک و تشنہ زمينوں کا سينہ چاک کردينے والي بارش کے ذريعے اپنے کمزور و ناتواں بندوں کي دستگيري فرما اور مردہ زمينوں کو نئي زندگي عطا کردے ?آمين يا رب العالمين ?
ابھي امام حسين (ع) کي يہ دعا پوري بھي نہيں ہوئي تھي کہ يکايک بادل اٹھا اور شہر کوفہ اوراس کے اطراف ميں رحمت الہي کي اس طرح جھوم جھوم کے بارش ہوئي کہ تمام کوہ و دشت سيراب ہوگئے ?
ان واقعات سے آپ کے تواضع و انکساري نيز بارگاہ الہي ميں تقرب و منزلت کا صاف پتہ چلتا ہے کہ آپ کس قدر خدا کے محبوب اور مردم دوست تھے اور آپ کا وجود کس طرح خدمت ديں اور خدمت خلق کے جذبوں سے معمور تھا شعيب ابن عبدالرحمن سے روايت ہے کہ روز عاشورا لوگوں نےامام حسين (ع) کي پشت پر گھٹے کے نشان ديکھے تو امام زين العابدين عليہ السلام سے اس کي وجہ پوچھي تو آپ نے فرمايا : يہ نشان بيواؤں ، يتيموں اور مسکينوں کے گھروں تک نان و خرما پيٹھ پر لادکر لے جانے کے سبب ہے ?يہي وجہ ہے شافعي مسلک کے ايک بڑے عالم ابن کثير نے امام حسين (ع) کے مقام و منزلت کا ذکر کرتے ہوئے نقل کيا ہے کہ رسول اسلام (ص) امام حسن (ع) اور امام حسين (ع) کو محترم سمجھتے تھے اور ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے لہذا کمسني کے باوجود دونوں کا پيغمبر (ص) کے صحابيوں ميں شمار ہوتا تھا وہ مرتے دم تک ان کے ساتھ محشور و مصاحب تھے رسول اسلام (ص) بھي ان سے پوري طرح راضي تھے ،پيغمبر (ص) کے بعد ابوبکر و عمر و عثمان بھي ان کا احترام کرتے رہے اور خلفائے ثلاثہ کے بعد دونوں اپنے باپ کے صحابيوں ميں شامل تھے اور ان سے حديثيں روايت کرتے تھے اور تمام حالات ميں حضرت علي (ع) کے ساتھ ساتھ رہے ?اس کے بعد لکھتے ہيں : امام حسين (ع) تمام لوگوں کے درميان عظمت و احترام کے حامل تھے لوگ ان سے بہت عشق و علاقہ رکھتے تھے کيونکہ وہ پيغمبر (ص) کے فرزند تھے اور روئے زمين پر کوئي ان کے جيسا نہ تھا ?
ہم اس موقع پراپنے تمام مخاطبين کي خدمت ميں مسرت و شادماني سے معمور ، عيد کي خوشيوں سے مملو مبارک و مسعود ايام کي مناسبت سے تہنيت و تبريک پيش کرتے ہيں ? خاص طور پر حريت و آزادي کے علمبردار ،اسلام و قرآن کي سربلندي و سرافرازي کے پيغامبر سبط رسول الثقلين ، علي (ع) و فاطمہ (س) کے دل کا چين ، عالم اسلام کے نورعين حضرت امام حسين عليہ السلام کي عالم نور سے عالم ظہور ميں آمد آپ سب کو مبارک ہو ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے