الجزيرہ کي خبروں ميں مذہبي اختلافات پيدا کرنے کي چال؛

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق بحرين ميں قومي مذاکرہ شروع ہوئے ابھي کچھ روز نہ گذرے ہيں کہ جس ميں حکومت کے سربراہ اور مخالف پارٹي کے درميان سياسي ، معيشتي ، سماجي اور قانوني امور ميں اصلاح کے سلسلہ ميں غور کيا جا رہا ہے اسي اثنا ميں الجزيرہ چائينل اپنے ويب سائٹ پر ايک دستاويز شايع کيا ہے جس کے اوپر اس دستاويز کو خفيہ دکھايا گيا ہے اور اس کي بنا پر بحرين ميں شيعوں کو اقليت ميں ہونے کا دعوي کيا ہے ?
اس دستاويز ميں بيان کيا گيا ہے : اس دستاويز کے مطابق جو کہ بحرين کي مردم شماري کے مرکزي ا?فس اور وزيروں کے معلوماتي کونسل کي طرف سے سن ???? ميں جو مردم شماري انجام پائے ہيں اس ميں بحرين کے اھل سنت کي ا?بادي کل ملک کي ا?بادي ميں ?? في صد ہے اور شيعوں کے ا?بادي ?? في صد پر رکي ہوئي ہے ?
الجزيرہ ويب سائيٹ نے اسي طرح زور ديا ہے کہ تمام اعداد و شمار جو کہ ?? سال پہلے شايع ہوئي ہيں اور جس ميں شيعوں کي ا?بادي ?? في صد بيان کيا گيا ہے يہ سب غير حکومتي تھے ?
قابل ذکر ہے کہ اس دستاويز کو اس وقت شايع کيا جا رہا ہے جب قومي مذاکرہ شروع ہوا ہے اور الوفاق اسلامي جو کہ حکومت کي سب سے بڑي مخالف اور شيعوں کي پارٹي ہے جس نے اس مذاکرہ کے سلسلہ ميں رضايت نہي دي ہے ? ا?ل خليفہ حکومت کے خلاف شيعہ اور سني دونوں مل کر اعتراض کر رہے ہيں اس مخالفت کو کمزور کرنے کے لئے الجزيرہ کي يہ سازش ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے