
رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، ايک گھر ميں چھاپے کے دوران اترپرديش پولس کي ہاتھوں قران کريم کي بے حرمتي پرعوام مشتعل ہوگئي لوگوں نے پولس پرپتھراو کيا اور پولس کي گاڑيوں ميں اگ لگا دي اور پولس نے جوابي کاروائي ميں عوام کو گوليوں کا نشانہ بنايا ?
اس رپورٹ کے مطابق شھر مراداباد سے 12 کيلو ميٹرفاصلے پرموضع بگھا رھنے والے تسليم احمد عرف سيفي خيراتي کے گھر ايک معاملے ميں کل صبح مينا تھير پولس تھانے نے دبش دي تھي جسے ايک داروغہ اور پولس تسليم احمد کے گھر دينے ائے تھے ، گھر ميں نور جہاں نام کي بچي قران کريم کي تلاوت ميں مصروف تھي کہ ناگہاں پولس والوں نے بچي کے ہاتھوں سے قران کريم چھين کر ٹکڑے ٹکڑے کرديا ?
پولس والوں کي اس اھانت اميز حرکت کو سن پڑوس کے لوگ گھروں سے باھر نکل ائے اور داروغہ پر حملہ ور ہوگئے اور پھرجيسے جيسے اطراف کے لوگوں کو خبر ملتي رہي مجمع بڑھتا رہا اور حالات خراب ہوتے رہے ?
سنبھل کے راستے پر پہنچي ھزاروں کي بھيڑ نے راستہ بند کرکے پولس کے خلاف جم کرنارے بازي کي تاھم کچھ اعلي پولس عھدے داروں کے زخمي ہونے کي خبر ملي ہے ?
قران کريم کي اس بے حرمتي کے معاملے کي خبر ملتے ہيں شھر کے امام معصوم علي ازاد اوربابري مسجد ايکشن کميٹي کے ضلع صدر سليم احمد بابري موقع پر پہونچے اور انہوں نے حالات کے نازک ہونے سے انتظاميہ کو باخبر کيا ?
قابل ذکر ہے کہ شھر کے حالات کو قابو ميں لانے کے لئے اس وقت انتظاميہ نے پي اے سي تعينات کردي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے