آيت الله مظاهري :

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي اصفھان سے رپورٹ کے مطابق ، حضرت آيتالله حسين مظاهري نے شھر اصفھان کے بعض سرکاري ملازمين سے ملاقات ميں تاکيد کي : حقيقي مسلمان وہ ہے جو اصول دين کا معتقد اور اپنے ايمان کے مطابق عمل کرے کہ اس صورت ميں دين کي بناديں اور ڈھانچہ دونوں مستحکم ہوگا مگر ايمان کو مکمل کرنے والا عنصر امر بالمعروف و نهي عن المنکر ہے جسے مسلم دنيا ميں خاص اھميت حاصل ہے ?
انہوں نے اس سلسلے ميں مزيد کہا : امر بالمعروف و نهي عن المنکر کي اھميت اس قدر زياد ہ ہے کہ قران کريم نے ان دو کو اھميت دينے والي امت کو برترين امت کا لقب ديا ہے اور اس امت کو کامياب وکامران جانا ہے ?
حضرت آيتالله مظاهري نے اپنے باتوں کے سلسلے کو اگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ امر بالمعروف و نهي عن المنکرشرعي فعل ہونے کے ساتھ ساتھ عقلي کام بھي ہے عقل و فطرت اور اخلاقي ضمير امر بالمعروف و نهي عن المنکر کو بخوبي قبول کرتا ہے اور اسي لحاظ سے اسلام ميں امر بالمعروف و نهي عن المنکر تعبدي نہي ہے بلکہ ان دو کے سلسلے ميں اسلام کي اھميت درحقيقت حکم عقل کي ھدايت ہے ?
حضرت آيتالله مظاهري نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ امر بالمعروف و نهي عن المنکر فقط اسلام ہي سے مخصوص اور فقط مسلمانوں کے نزديک ہي اس کي اھميت نہي ہے کہا : تمام انسانوں کي عقل و فطرت اور ضمير امر بالمعروف و نهي عن المنکر کي ضرورت محسوس کرتي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے