
رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مجلس وحدت مسلمين پاکستان کي جانب سے چوبيس جولائي کو قائد شہيد حجت الاسلام والمسلمين عارف حسين الحسيني کي 23 ويں برسي کے حوالے سے اسلام آباد ميں منعقد ہونے والے استقلال پاکستان کنونشن ، حمايت مظلومين ريلي اور محصورين پارا چنار کے لئے بھجوائے جانے والے امدادي کاروان امن کے سلسلے سے گزشتہ روز ايم ڈبليوايم کے مختلف اراکين نے ملک کي اہم سياسي و مذہبي شخصيتوں سے ملاقاتيں کيں ?
ان افراد نے انہيں اس تاريخ ساز پروگرام ميں شموليت کي دعوت ديتے ہوئے مختلف قومي و علاقائي امور پر گفتگو کي اور ملک کو درپيش معاشي وا قتصادي بحرانوں کے علاوہ سرزمين وطن پر ہونے والي دہشت گردي ، لاقانونيت اور ٹارگٹ کلنگ کے نتيجہ ميں پيدا ہونے والي صورت حال پر بات چيت کي گئي ?
ان شخصيتوں نے وفد کو اس اقدام سے اپني رضايت کا اظھار کرتے ہوئے انہيں يقين دہاني کرائي کہ وہ اس تاريخي اجتماع ميں شامل ہو کر ايم ڈبليو ايم کے شانہ بشانہ استقلال پاکستان کے لئے اپنا کردار ادا کريں گے ?
قابل ذکر ہے کہ خير پور سندھ کے سينيٹر ساجد حسين زيدي، چنيوٹ کے سابق ايم اين اے سيد عنايت علي شاہ، ٹھٹہ کے سابق ايم اين اے سيد اياز علي، خوشاب کے سابق ايم اين اے سردار شجاع خان بلوچ، سرگودھا کے سابق ايم اين اے امان اللہ سيال، حافظ آباد کے سابق ايم پي اے ،لک جمشيد اللہ ، ليہ کے سابق ايم پي اے حاجي اللہ بخش ساميٹيہ، تلہ نگ کے سابق ايم پي اے سيد تقليد رضا شاہ، چکوال کے سابق ايم پي ا ے چوہدري اعجاز فرخ اور ليہ کے رکن پنجاب اسمبلي قيصر عباس مگسي نے بھي استقلال پاکستان کنونشن ميں شموليت کي يقين دہاني کرائي ہے ?
واضح رہے کہ ملنے والوں ميں سابق مشير وزير اعظم پاکستان حيدر علي مرزا، فاٹا کے رکن قومي ا سمبلي نورالحق قا دري، ايم کيو ايم کے رکن قومي اسمبلي حيدر عباس رضوي، اورکزئي کے رکن قومي اسمبلي ملک جواد اور گجرات کي ممتاز سياسي و سماجي شخصيت نور الحسن شاہ کا نام سر فہرست ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے