16 July 2011 - 17:21
خبر کا کوڈ: 3019
فونت
برقع پر پابندي کے بعد ؛
رسا نيوز ايجنسي - آسٹريليا کي رياست نيو ساؤتھ ويلز کي پليس کو ايک جديد اختيار ديا گيا ہے کہ جرم ميں مشکوک افراد کي تلاش کے لئے ھر طرح کے برقع يا کوئي دوسرے حجاب کو ان کے چہرہ سے زبر دستي ہٹايا جائے ?
اسٹريليا ميں مسلمانوں کے مسائل ميں اضافہ

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق گذشتہ ھفتہ آسٹريليا کي رياست نيو ساؤتھ ويلز کي پليس کو عدالت نے اجازت دي ہے کہ اگر کسي مسلمان محجبہ خواتين پر شک ہو تو اس کو اجازت ہے کہ اس کے اسلامي لباس کو ہٹا کر چہرہ ديکھے ? عدالت کے اس حکم پر وہاں کے مسلمانوں نے شديد رد عمل پيش کيا اور مسلمان خواتين ميں خدشات و فکر مندي ہونے لگي ?

رياست نيو ساؤتھ ويلز کے اسلامي کونسل کے ذمہ دار نے کہا : ھم لوگ اس نئي تدبير کو قبول کرتے ہيں اور مسلمان خواتين انجمن نے بھي اعلام کيا ہے کہ اس اصلاحات سے مشکل نہي ہے اس شرط کے ساتھ کہ پليس والوں کو چاہيئے کہ خواتين پليس کے ذريعہ اس احکام پر عمل کرے ?

ايک محجبہ خاتون نے بيان کيا : افراد کي پہچان پليس کا حق ہے ليکن اس قانوں سے غلط فائيدہ نہ اٹھايا جائے اور پليس خود ايسا نہ کرے کہ خواتين کے چہرہ سے برقع ہٹائے ? پليس کو چاہيئے کہ مختلف مذاھب کے ماننے والوں کے عقيدہ کا احترام کرے اور خواتين پليس کو اس کام کے لئے معين کرے ?

قابل ذکر ہے رياست نيو ساؤتھ ويلز کي پليس پہلے بھي اس حد تک اجازت رکھتي تھي کہ کسي بڑے جرم کي تحقيق کے لئے مشکوک خواتين کے چہرہ کا حجاب ہٹا کر ديکھے مگر چھوٹے جرم کے لئے اس طرح کے اختيار نہي تھے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬