16 July 2011 - 17:40
خبر کا کوڈ: 3020
فونت
آيت الله سبحاني :
رسا نيوز ايجنسي ـ آيت الله سبحاني نے بيان کيا : ہر طرح کا فعل ، عمل اور جديد عقيدہ جس کي بنياد شريعت ميں نہي پائي جاتي ہے وہ بدعت ، حرام اور گناہ کبيرہ ہے ?
حضرت آيت الله جعفر سبحاني

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله جعفر سبحاني مرجع تقليد نے کلام اسلامي کے اپنے پانچويں درس ميں جو مشہد کے مدرسه علميه عالي نواب ميں ا?ج صبح منعقد ہوئي بيان کيا : زمان و مکام احکام اور زندگي کے حالات کو بدل ديتي ہيں جس کي بنا پر حکم ميں تبديلي پائي جاتي ہے ليکن انسان کے بدن کي تشريح ميں علم طب کي بھي ضرورت ہے اور اسي طرح مسلمانوں کے بدن کا احترام بھي ضروري ہے ، لہذا اگر دو يا تين بدن تشريح کے لئے ديا جائے تو بقيہ کي تشريح نہ کريں کيونکہ ضرورت ختم ہو جاتي ہے ?

حوزہ علميہ قم ميں اعلي سطح کے استاد نے بيان کيا : اگر فرض کيا جائے کہ ہيضہ جيسي بيماري پھيل جائے اور اگر لوگ ويکسن نہ لگوائين تو بربادي و نابودي ہو سکتي ہے تو يہاں پر ويکسن کي تائيد کا حکم نہي ا?يا ہے ليکن سب لوگ کہتے ہيں کہ ويکسن انسان کے جان کي حفاظت کرتا ہے لہذا ھم لوگ اس مصلحت کي بنا پر شريعت کے حکم کو کشف کرتے ہيں ، نہ يہ کہ شريعت کے حکم کو بناتے ہيں کيونکہ ھم لوگ کو حکم بنانے کا حق نہي ہے ?

انہوں نے وضاحت کي : اگر کوئي شخص مصلحت کے ذريعہ چاہتا ہے حکم شرع کو کشف کرے اگر منطقه الفراغ ہو اور دوسرے سب کہيں کہ يہ مصلحت ہے تو کوئي مشکل نہي ہے ليکن اگر منطقه الفراغ نہ ہو اور حکم شرع ہو اور معلوم ہو کہ يہ حکم شرع اس وقت کے مصلحت کے مطابق نہي ہے تو کسي بھي صورت ميں دوسرے حکم کو اس کي جگہ نہي بيان کيا جا سکتا ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬