آيت الله سبحاني :

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي مشھد مقدس سے رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقليد ميں سے حضرت آيت الله جعفر سبحاني نے علم کلام کي سلسلہ وار نشست ميں جو اج صبح مدرسہ علميہ نواب مشھد مقدس کے ہال ميں منعقد ہوئي کہا : رسول خدا (ص) اپني وفات کے بعد دين اسلام ميں بدعتوں کے رواج سے با خبر تھے اسي لئے اپ نے ايک حديث ميں فرمايا : «و شر الامور محدثاتها و کل محدثة بدعة و کل بدعة ضلالة و کل ضلالة في النار» ونيز اپ نے امت کو جھوٹوں سے باخبر کيا ہے ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ رسول اسلام کي وفات کے بعد دين کي سب پہلي بدعت اپ کي اولاد کو ورثہ سے محروم کيا جانا ہے فرمايا : پغمبر اسلام صلي اللہ عليہ والہ وسلم کے پاس دو قسم کا سرمايہ تھا ، ايک منصب نبوت وامامت سے متعلق تھا جس ميں ھرگز کسي کا ورثہ نہي تھا اور دوسرے اپ کا اپنا مال واسباب ? لہذا اپ کي اولاد کو اپ کي جائداد ميں ارث سے محروم کئے جانے کے اسباب وعلل پر بحث کيا جانا لازم و ضروري ہے ?
حوزہ علميہ قم کے اس معروف استاد نے يہ اس سوال کو اٹھاتے ہوئے کہ کيوں دوسرے افراد باپ کے مال سے ارث پا سکتے ہيں مگر رسول (ص ) کي بيٹي رسول کے مال ميں ارث کي حقدار نہي کہا : کيا پيغبر اسلام صل اللہ عليہ والہ وسلم کے پاس فدک کے علاوہ بھي جائداد تھي اوراگر نہي تھي تو يہاں پر يہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر پيغمبر اسلام (ص) ورثہ نہي چھوڑتے تو اپ کي تمام ازواج کو گھروں سے نکال دينا چاھئے تھا کيوں وہ سارے گھر خود ان کے کہنے کے مطابق صدقہ تھے مگر حقيقت يہ کہ يہ سب فقط فدک کے غصب کرنے کے لئے ايک بہانہ تھا تاکہ حضرت صديقه کبري (س) اس دولت کے ذريعہ ولايت ووقت کے امام کي حمايت نہ کرسکيں ?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ منصب امامت ونبوت ورثہ کي چيز نہي ہے کہا : خداوند متعال نے قران کريم ميں فرمايا : «وَ وَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ وَ قالَ يا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَ أُوتِينا مِنْ کُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هذا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ... » اگر حقيقتا يہاں پر ورثہ علم تھا تو قران ميں « و قال» نہي کہنا چاھئے تھا بلکہ ضروري ہے کہ «فقال» کہا جائے ?
حضرت آيت الله سبحاني نے مزيد کہا : اهل سنت حضرات حديث «نحن معاشر الأنبياء لا نورث ...» مرسل اعظم (ص) سے نقل کرتے ہيں مگر ھمارا ان سے سوال يہ کہ اگر يہ حديث موجود ہے تو پيغمبراسلام (ص) نے اس حديث کو ابوبکر سے ہي کيوں فرمايا اور حضرت نے اسے صديقه کبري (س) سے کيوں نہي کہا ؟ مگرپھر بھي ھم احتمال ديتے ہيں کہ مرسل اعظم ( ص ) نے صديقه کبري (س) سے اس طرح فرمايا ہو«نحن معاشر الانبياء لا نورث ما ترکناه صدقة » يعني ھم انبياء صدقہ کے عنوان سے جو کچھ بھي چھوڑتے وہ ارث کے لائق نہي ?
انہوں نے صدراسلام کي ديگربدعتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : لازم ہے کہ بدعت انجام دينے والوں کے مقاصد واھداف پر غور کيا جائے کہ وہ اسے کيوں انجام ديتے تھے ؟ اس کے مختلف اسباب ہيں جن ميں سے اھم ترين وجہ ان کا جاہلانہ تقدس ہے اور اج بھي معاشرے ميں اس طرح کے افراد موجود ہيں ?
اس مرجع تقليد نے ياد دہاني کي : خداوند متعال نے سوره حجرات کي ابتداء ميں فرمايا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِه» يہ ايت اس معني ميں کہ « اے با ايمان لوگو خدا و پيغمبرسے اگے نہ بڑھو » اس ايت ميں اگے بڑھنے سے مراد راستہ چلتے ميں اگے بڑھنا نہي ہے ، بسا اوقات نادان وخشک مقدس افراد کو تکليفوں کے سوا کچھ بھي ہاتھ نہي اتا ?
انہوں نے دوسرے گزاروں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کبھي افراد علمي تعصب کي بناء پر مکمل اگاہي کے ساتھ دين ميں بدعت قائم کرتے ہيں تاکيد کي : عمربن خطاب دو باتوں ميں بہت حساس تھا ايک «عمره تمتع» اور دوسرے «متعة النساء» ، اسي بنياد پر منصب خلافت پر پہونچتے ہي متعة النساء کے سلسلے ميں جاہلانہ تعصب کو دين ميں داخل کرديا اوردين ميں خدا کي مصلحت پر اپني مصلحت کو مقدم جانا ?
حضرت آيت الله سبحاني نے اپني تقرير کے دوسرے دور ميں اس سوال کو اٹھاتے ہوئے کہ ايا رسول اسلام نے بدعتوں کو روکنے کے حوالے سے اسلام وشريعت ميں کوئي راستہ بتايا ہے يا نہي ، انہوں نے جواب ديتے ہوئے کہا : رسول اسلام (ص) سے اس سلسلے ميں حديثيں منقول ہيں جس نے کسي حد تک ان بدعتوں کو ان کے رواج سے روکا بھي ہے اور مرسل اعظم (ص) نے فقط اسي پر اکتفاء نہي کيا بلکہ بہت سارے ديگر اقدامات بھي انجام دئے کہ اس کا پہلا قدم داستان يوم الخميس ہے کہ اگر اپ کي وفات کے بعد يہ سلسلہ باقي رہتا تو ھرگز دين ميں بدعتيں نہ اتيں ?
انہوں نے مزيد کہا : اگر تمام لوگ اميرالمؤمنين علي (ع) کي امامت کے قدم بہ قدم چلتے تو اس قدر دين ميں بدعتيں اور فرقے پيدا نہ ہوتے ، پيغمبر اسلام (ص) کي حديث «إني تارک فيکم الثقلين کتاب الله و عترتي أهل بيتي» کا مقصد يہي تھا کہ اگر لوگ ان دو کے ھمراہ رہيں گے تو ھرگز گمراہ نہ ہوں گے يا اپ کي دوسري حديث کہ : «مثل اهل بيتي کمثل سفينه النوح من رکبها نجي و من ترکها غرق» اھل بيت سے جدائي دريائے ضلالت وگمراہي ميں غرق ہونے کا ضامن ہے ?
اس مرجع تقليد نے بدعتوں کو روکنے کے لئے دين کے ايک دوسرے پروگرام ميں امربالمعروف اورنہي عن المنکر کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : « الَّذِينَ إِن مَّکَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّکَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنکَرِ» امر بالمعروف ونہي عن المنکر معاشرے ميں پھيلتي بدعتوں کو روک سکتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے