بحرين کے شيعہ رہنما :

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق بحرين کے شيعہ رہنما آيت الله شيخ عيسي قاسم نے شہر دراز کے مسجد امام صادق (ع) ميں اس ھفتہ کے نماز جمعہ کے خطبہ کے درميان دنيا ميں ظلم و فساد کے پھيلنے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : دنيا ميں روز بہ روز بحران ميں اضافہ ہوتا جا رہا ہے لوگوں کي پريشاني و نا اميدي دين اور خدا وند عالم کي تعلمات اور اس کي اھميت سے دوري کي بنا پر ہے ? ايک روز ا?ئيگا جب زمين انساني مشکلات اور ظلم سے ا?زاد ہوگا ، ليکن يہ نجات حاکم کي حکومت کے ذريعہ حاصل نہي ہوگي ?
انہوں نے اس تاکيد کے ساتھ کہ دنيا والے ايک نجات دينے والے کے انتظار ميں ہيں وضاحت کي : خداوند عالم اس کام کے انجام پانے کے لئے ايک شخص کو بھيجے گا جو خدا کے دين کو تمام دنيا ميں اس کے حکم و الھي عدالت کے مطابق ادارہ کريگا ?
آيت الله عيسي قاسم نے انسانيت کي خداوند عالم اور دين اسلام کي طرف واپسي ضروري ہونے کي تاکيد کي اور اظہار کيا : زمين تاريکي ميں غرق اور ظلم و جور سے پر ہو چکي ہے اور جمہوريت، کميونزم، قوم پرستي، سرمايہ داري، سوشلزم، سيکولرازم سامراج اور تمام تحريکوں کے ذريعہ نجات حاصل نہي ہو سکتي ? دنيا ميں اس وقت پائي جا رہي ظلم و بربريت سے نجات صرف خداوند عالم اور اسلام کي شريعت کي طرف پلٹنے سے ہي ممکن ہے اور اس زمين کي سربراہي امام زمانہ کے غيبت کے زمانہ ميں امام زمانہ (عج) اور ان کے با وفا اصحاب کي قيادت اور ان کي ظہور سے ہي ممکن ہے ?
بحرين ميں شيعہ کے رہنما نے ا?ل خليفہ کي طرف سے قومي مذاکرہ کے منعقد کرنے پر حيرت کا اظہار کيا ہے اور کہا : واضح نہي ہے کہ حکومت نے اس مذاکرہ کو کس وجہ سے منعقد کيا ہے ، اگر ملک کا اصل مسئلہ سياسي اصلاحات ہے تو اس طرف کيوں توجہ نہي دي جا رہي ہے ، يہ ملک کي سب سے اھم اور ضروري مسئلہ اس وقت سياسي فساد ہے ليکن اس مذاکرہ ميں ان لوگوں کو بلايا گيا ہے کہ جو ا?ل خليفہ اور ملک کے سياست کو ھر طرح سے اچھا بيان کرنے کي کوشش کرتے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے